Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 23 october, 2009, 08:38 GMT 13:38 PST

دل صاف ہے منتقم مزاج نہیں: یونس

یونس خان

’میرے نزدیک سب سے مقدم پاکستان اور پاکستانی کرکٹ ٹیم ہے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ ان کا دل صاف ہے اور وہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جنہیں ان سے شکایت رہی ہے۔ لیکن اگر کسی کرکٹر کو ان سے شکایت ہے تووہ کھل کر سامنے آئے اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دے تاکہ حقیقت معلوم ہوسکے۔

واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات سے دلبرداشتہ ہوکر یونس خان نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے انہیں 2011 کے ورلڈ کپ تک کپتان مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔

یونس خان کے استعفے کے ضمن میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ متعدد کھلاڑیوں نے یونس خان کے مبینہ سخت لہجے کی شکایت کی اور وہ ان کی کپتانی میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

یونس خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے لیے بہت آسان ہے کہ جن کرکٹرز کے نام ان کی کپتانی پر اعتراض کرنے والوں کے طور پر سامنے آئے ہیں وہ ان سے طنزیہ انداز یا انتقامی رویہ اختیار کریں۔

’لیکن خدا گواہ ہے کہ میں دل و دماغ میں کوئی بھی منفی سوچ نہیں رکھے ہوئے ہوں بلکہ میں ان کے ساتھ گھل مل کر ٹیم کی بہتری کے لیے سوچ رہا ہوں کیونکہ میرے نزدیک سب سے مقدم پاکستان اور پاکستانی کرکٹ ٹیم ہے۔‘

اس سوال پر کہ آیا کرکٹرز بھی ان کے ساتھ تعاون کریں گے یونس خان نے کہا کہ یہ تو ہر انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح سوچتا ہے۔ کچھ لوگ ہر بات کو دل میں رکھتے ہیں اور اسے بھولتے نہیں ہیں اور اس کا علاج ان کے پاس نہیں۔

’لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم سب پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں یہ کوئی جائیداد کا جھگڑا نہیں ہے۔‘

یونس خان نے واضح کیا کہ اگر کسی کو بھی ان سے کوئی شکایت ہے تو وہ اوپن فورم میں آئے اور کھل کر بتائے کہ مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور میڈیا کو بھی پتہ چلے کہ غلطی پر کون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے وہ ہر طرح کے ٹرائل کے لیے تیار ہیں۔ یونس خان نے کہا کہ اگر وہ سخت یا نرم رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ صرف ٹیم کی بہتری اور جیت کے لیے ہوتا ہے۔

اگر کسی کو بھی مجھ سے کوئی شکایت ہے تو وہ اوپن فورم میں آئے اور کھل کر بتائے کہ مسئلہ کیا ہے۔ عوام اور میڈیا کو بھی پتہ چلے کہ غلطی پر کون ہے۔ اگر میں سخت یا نرم رویہ اختیار کرتا ہوں تو صرف ٹیم کی بہتری اور جیت کے لیے کرتا ہوں۔

یونس خان

انہوں نے کہا کہ انہوں نے جتنی بھی کرکٹ کھیلی ہے پبلک ریلشننگ کے بغیر کھیلی ہے اور بحیثیت کپتان بھی انہوں نے کرکٹرز پر غیرضروری سختی نہیں کی ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے کہ ڈکٹیٹرشپ ہوتی تھی۔ یونس خان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈکٹیٹر ہیں تو انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں اس طرح کے شخص ہوسکتا ہوں۔ کپتان کو ڈکٹیٹر بنانے والے ٹیم کے لوگ ہی ہوتے ہیں لیکن میں ہر ایک کے ساتھ مل جل کر رہنے والا شخص ہوں۔‘

یونس خان نے تسلیم کیا کہ دوبارہ کپتان بننے کے بعد وہ اپنے اوپر زیادہ ذمہ داری محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دباؤ کا شکار نہیں ہیں لیکن انہیں اندازہ ہے کہ اگر ماضی میں وہ سو فیصدکارکردگی دکھا رہے تھے تو اب انہیں اس سے بھی بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود کو صف اول کا بیٹسمین سمجھتے ہیں تو انہیں ہر دوسری تیسری اننگز میں بڑا سکور کرنا ہوگا کیونکہ ان جیسے بیٹسمینوں کے رنز سے ہی ٹیم جیتا کرتی ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف نہ صرف بحیثیت بیٹسمین بلکہ بحیثیت کپتان بھی اچھی کارکردگی کے خواہشمند ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔