
یونس خان قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے قومی اسمبلی آئے
قومی اسمبلی کی کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کار میں بیٹھ کر روانہ ہونے والے تھے یونس خان نے کپتانی چھوڑنے کا پروانہ ان کے حوالے کردیا۔
یونس خان اس سے قبل قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی استعفی پیش کرچکے تھے لیکن اسوقت اعجاز بٹ نے اسے ماننے سے صاف انکار کردیا تھا تاہم دوسری مرتبہ استعفی ملنے کے بعد اعجاز بٹ کے پاس کہنے کے لیے اب یہی ہے کہ اس پر کرکٹ بورڈ کے گورننگ ممبرز اپنے آئندہ ہفتے کے اجلاس میں غور کریں گے۔
یونس خان کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت سے انکار نئی بات نہیں ہے ۔
پہلی مرتبہ انہوں نے2006 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل اس وقت کپتانی چھوڑی تھی جب وہ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین شہریارخان سے ملنے گئے اور انہیں باہر انتظار کرنے کے لیے کہا گیا۔ بعد ازاں جب وہ کوچ باب وولمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر سب کو چونکادیا تھا کہ وہ ’ڈمی کپتان‘ بننا نہیں چاہتے تاہم چند روز کے بعد شہریارخان کی جگہ کرکٹ بورڈ کےچیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے یونس خان کو دوبارہ کپتانی کے لیے قائل کر لیا تھا۔
یونس خان نے دوسری مرتبہ کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ2007 میں بھارت کے دورے کے دوران کیا۔ اس دورے میں شعیب ملک کے ان فٹ ہوجانے کے بعد نائب کپتان ہونے کے ناتے انہیں دو ٹیسٹ میچوں میں کپتانی سنبھالنی پڑی تھی لیکن ان فٹ شعیب اختر کو ٹیم میں شامل کرنے اور راؤ افتخار کو متبادل کھلاڑی کے طور پر بھارت بھیجنے کے فیصلے پر اعتماد میں نہ لیے جانے پر انہوں نے کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ کرڈالا تھا اور ڈاکٹر نسیم اشرف کے سمجھانے پر وہ قیادت کے لیے راضی ہوئے تھے۔
یونس خان کا کپتان ہوتے ہوئے قیادت نہ کرنے کا تیسرا واقعہ بظاہر ان کے جذباتی ہونے کا عکاس ہے لیکن اس جذباتیت میں وہ تکلیف بھی موجود ہے جو انہیں میچ فکسنگ کے الزامات میں ملوث کیے جانے پر برداشت کرنی پڑی۔
سرحد پار میڈیا نے پاکستانی ٹیم کو میچ فکسنگ میں ملوث کرنے کے الزامات اور انکشافات کا جو سلسلہ شروع کیا اس میں پاکستانی پارلیمان کے ایک رکن کی آواز بھی شامل ہوگئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کرکٹر جو کچھ ہی مہینے پہلے ہیرو کے طور وزیراعظم ہاؤس میں بلائے گئے تھے اب بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پارلیمان میں موجود تھے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے یونس خان اور پاکستانی ٹیم کو میچ فکسنگ کے الزامات سے کلیئرنس کا سرٹیفکیٹ تو دے دیا لیکن اس سوال کا جواب بہرحال دیا جانا ضروری ہے کہ کمیٹی نے ان لوگوں کو کیوں طلب نہیں کیا جنہوں نے میچ فکسنگ کے الزامات عائد کئے تھے کہ وہ آ کر ان الزامات کو ثابت کریں لیکن اس کے برخلاف جن پر الزامات عائد کیے گئے انہیں بلاکر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کہا گیا اور کئی روز سے انہیں تکلیف دہ صورتحال میں مبتلا رکھنے کے بعد اتنی آسانی سے بے گناہ بھی قرار دے دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
پاکستانی ٹیم کے لیے اس وقت مشکل یہ ہے کہ اگر وہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کردیاجاتا ہے اور اگر شکست ہو اسے میچ فکسنگ کے شکنجے میں کسنے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔
یونس خان کو جاننے والے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک جذباتی انسان ہیں جن سے کسی بھی وقت کسی بھی فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے جب بات ان کے مزاج کے خلاف ہو لیکن انہیں جاننے والے اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں کہ ان سے کسی کرپشن کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ سری لنکا کے حالیہ دورے میں جب کچھ مشکوک افراد پاکستانی کرکٹرز سے میل جول بڑھانے کی کوشش کی تو یہ یونس خان ہی تھے جنہوں نے ٹیم منیجمنٹ کو الرٹ کیا تھا لہذا اس بات پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ وہ کرپشن میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یونس خان کے استعفے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کیا فیصلہ کرتا ہے۔اگر ان کا استعفٰی منظور کرلیا جاتا ہے تو کچھ حلقوں کے مطابق یہ غیرمتوقع نہیں ہوگا کیونکہ چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجازبٹ اور نائب کپتان شاہد آفریدی کی ملاقات کے بعد قیادت میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔
ان حلقوں کے مطابق جب اس ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ نے یہ خبریں دیں کہ بورڈ نے شاہد آفریدی کو قیادت کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے تو بورڈ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یونس خان پر اعتماد کے ضمن میں کوئی بیان دینا مناسب نہیں سمجھا جس سے یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ بورڈ خود ہی ٹیم کی قیادت میں تبدیلی چاہتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک کے اس بیان کا بھی نوٹس نہیں لیا ہے کہ وہ آئندہ اوپنر یا ون ڈاؤن کھیلنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شعیب ملک کا یہ بیان سینٹرل کنٹریکٹ کی رو سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے لیکن بقول ان کے کوئی کارروائی اس لیے ممکن نہیں کہ وہ شعیب ملک ہیں شعیب اخترنہیں۔
© MMIX