
یونس خان کا استعفی پڑھا تک نہیں ہے:اعجاز بٹ
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ انہیں یونس خان کا استعفی پہلے بھی منظور نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے اور وہ آئندہ چند روز میں یونس خان سے ون ٹو ون ملاقات کرنے والے ہیں۔
یونس خان نے منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے اجلاس کے موقع پر میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات پر بطور احتجاج کپتانی سے استعفٰی دے دیا تھا۔
اعجاز بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب یونس خان نے دوسری مرتبہ استعفی ان کی کار میں آکر ان کے حوالے کیا تو انہوں نے یونس سے کہا کہ اس وقت وہ جذباتی ہو رہے ہیں لہذا اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے بات کریں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے یونس خان کا استعفی پڑھا تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونس خان سے آئندہ چند روز میں ملنے والے ہیں جس میں ان سے استعفٰی واپس لینے کی بات ہوگی۔
کرکٹرز کو کمیٹیوں کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ کام انتظامیہ کا ہے کہ وہ جواب دے
اعجاز بٹ
اعجاز بٹ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا سے کیوں ہاری؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس نکتے کی کوئی منطق بنتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ شوشا بھارتی میڈیا نے چھوڑا جسے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان میں بھی شروع کردیا گیا کہ کپتان نے میچ فکسنگ کی ہے۔
اعجاز بٹ نے کہا کہ یہ تمام الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں اور یہ صورتحال افسوسناک ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ یونس خان نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ کہا کہ میچ فکسنگ کے ان الزامات سے ان کی ذاتی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے لہذا وہ استعفی دے رہے ہیں جس پر کمیٹی نے یونس خان سے کہا کہ اس کا کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں لہذا وہ یہ استعفی بورڈ کےچیئرمین کو پیش کریں جس پر انہوں نے یہ استعفی انہیں دے دیا ۔
اعجاز بٹ نے کہا کہ کرکٹرز کو کمیٹیوں کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ کام انتظامیہ کا ہے کہ وہ جواب دے اور انہیں توقع ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی نزاکت کو سمجھیں گے۔
© MMIX