Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 13 october, 2009, 16:50 GMT 21:50 PST

’خود دار پٹھان ہوں، الزامات ناقابلِ برداشت تھے‘

یونس خان

یونس خان نے کہا کہ ٹیم میٹنگ کی باتیں جس طرح باہر آئیں اور اسسٹنٹ منیجر شفقت رانا نے جو بیان دیا وہ اگر واقعی انہوں نے دیا ہے تو غلط ہے: یونس خان

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھے اور میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد انہیں ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے انہوں نے کوئی جرم کردیا ہو اور وہ سب سے نظریں چرا رہے تھے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سپورٹس کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد اسلام آباد سے کراچی پہنچنے پر بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں یونس خان نے کہا کہ جب انہوں نے کپتانی سنبھالی تھی تو ان سے یہی کہاجاتا رہا کہ ٹیم کو ساتھ لے کر چلو۔

’مجھے کبھی کہا گیا منیجمنٹ کو ساتھ لے کر چلو، کبھی کہا گیا عوام کو ساتھ لے کر چلو۔ ’ان سات آٹھ ماہ میں میں نے بہت قربانیاں دے دیں لیکن میں بھی انسان ہوں اور خوددار پٹھان بھی‘۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ جب میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے تو یہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

یونس خان نے کہا کہ انہوں نے قائمہ کمیٹی پر بھی یہ واضح کیا کہ اس طرح کے الزامات کے بعد اگر ہر کپتان کی طلبی ہوتی رہی تو وہ یکسوئی سے کیسے کھیلے گا اور ٹیم کی قیادت کیسے کرے گا؟

یونس خان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سیمی فائنل میں پہنچی اور اس سے قبل ٹیم نے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی جیتا لیکن اس کی یہ کارکردگی پس پشت ڈال کر میچ فکسنگ کے بے سروپا الزامات عائد کردیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان الزامات کے بعد ان کے لیے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کےسامنے صفائی پیش کرنا مشکل ہوگیا تھا لہذا انہوں نے بہتر سمجھا کہ قیادت ہی چھوڑدیں۔

چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم سیمی فائنل میں پہنچی اور اس سے قبل ٹیم نے ورلڈ ٹوینٹی ٹوینٹی جیتا لیکن اس کی یہ کارکردگی پس پشت ڈال کر میچ فکسنگ کے بے سروپا الزامات عائد کردیے گئے

یونس خان

یونس خان نے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ اور چیئرمین اعجاز بٹ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔اعجاز بٹ نے استعفے کے باوجود ان سے آئندہ چند روز میں ملنے کے لیے کہا ہے۔ جہاں تک استعفے کی منظوری یا مسترد کرنے کا تعلق ہے یہ بورڈ کا کام ہے۔

یونس خان نے کہا کہ ٹیم میٹنگ کی باتیں جس طرح باہر آئیں اور اسسٹنٹ منیجر شفقت رانا نے جو بیان دیا وہ اگر واقعی انہوں نے دیا ہے تو غلط ہے۔

یونس خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم جس مقام پر آگئی ہے جو بھی قیادت سنبھالے گا وہ اسے بہتر طور پر چلائے گا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔