Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 9 october, 2009, 12:30 GMT 17:30 PST

اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا: یاور سعید

یاور سعید

یاورسعید نے بی بی سی سے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی کہ منیجر کا عہدہ چھوڑنے کی وجہ میڈیا کی تنقید تھی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سبکدوش ہونے والے منیجر یاور سعید کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرکٹ سے طویل وابستگی کے دوران اس کھیل کی خدمت کی ہے اور انہیں یہ اطمینان ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ یاور سعید نے سری لنکا کے دورے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے درخواست کی تھی کہ انہیں ان کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے تاہم ان سے کہا گیا تھا کہ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی تک یہ ذمہ داری نبھائیں۔

یاورسعید نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی کہ منیجر کا عہدہ چھوڑنے کی وجہ میڈیا کی تنقید تھی جس میں ان کی عمر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

چوہتّر سالہ یاورسعید کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی تنقید سے پریشان نہیں ہوئے۔ منیجر کی ذمہ داری جاری نہ رکھنے کی وجہ ان کی ذاتی مصروفیت ہے کیونکہ وہ بیک وقت کئی کام کرنے کے عادی نہیں جس سے وہ اپنے اصل کام سے انصاف نہ کرسکیں۔

یاور سعید کہتے ہیں کہ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے جن سربراہوں کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا انہوں نے ان کے کام میں کبھی مداخلت نہیں کی اور انہیں مکمل اختیارات دیئے اور انہوں نے بھی ان اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا۔ انہیں یہ اطمینان ضرور ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

یاورسعید کا کہنا ہے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انہوں نے عبدالقادر اور محمد یوسف کو وطن واپس بھیجا۔یہ دونوں فیصلے سخت اور مشکل تھے اور ایسا کر کے انہیں خوشی نہیں ہوئی تھی لیکن وہ نظم وضبط کی مثال قائم کرناچاہتے تھے۔

یاور سعید کو پاکستانی ٹیم پر عائد کردہ میچ فکسنگ کے بے سروپا الزامات پر سخت افسوس ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نےاس طرح کی خبریں شروع کیں اور پھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انہیں اور کپتان کو طلب کیا ہے ہونا تویہ چاہیے تھا کہ قائمہ کمیٹی یہ موقف اختیار کرتی کہ جو لوگ الزامات عائد کر رہے ہیں وہ پہلے ثبوت فراہم کریں اس کے بعد کرکٹرز کو وہ بلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں میچ فکسنگ کے الزامات عائد کرنے والوں کی عقل پر حیرانی ہے کیونکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ کا فیصلہ آخری گیند پر ہوا وہ کیسے فِکسڈ ہوسکتا ہے۔

یاور سعید نے کہا کہ سری لنکا کے دورے میں بھی میچ فکسنگ اور کھلاڑیوں کے بک میکرز سے مبینہ روابط کی باتیں اڑائی گئیں لیکن آئی سی سی نے خود اس کی تردید کی اور جنوبی افریقہ میں بھی آئی سی سی کا انٹی کرپشن یونٹ موجود تھا۔

یاور سعید جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اولین کپتان میاں محمد سعید کے بیٹے ہیں اور خود پنجاب اور سمرسٹ کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں کہتے ہیں کہ منیجر کا عہدہ چھوڑنے کے باوجود کرکٹ سے ان کی محبت ختم نہیں ہوگی یہ ایک ایسا تعلق ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔