Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 10 october, 2009, 02:47 GMT 07:47 PST

ملازمت کے ساتھ کرکٹ کا شوق

گھریلو خواتین امور گھرداری سے نمٹتے ہوئے کرکٹ سے اس طرح ناتہ جوڑی رکھتی ہیں

پاکستانی خواتین کرکٹ میں دلچسپی رکھتی ہیں یا کرکٹرز کی سحرانگیزی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں؟ یہ سوال ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن دونوں صورتوں میں صنف نازک نے کرکٹ کو ہمیشہ خوبصورتی دی ہے۔

فضل محمود سے عمران خان ، اور شعیب اختر سے شاہد آفریدی تک کرکٹرز کی ایک جھلک دیکھنے کی خواہش نوجوان خواتین خصوصاً طالبات کو کرکٹ اسٹیڈیمز لے جاتی رہی ہے۔ رہیں گھریلو خواتین تو وہ امور گھرداری سے نمٹتے ہوئے کرکٹ سے اس طرح ناتہ جوڑی رکھتی ہیں کہ کرکٹ ان کی سمجھ میں آئے یا نہ وہ ٹیم کی کامیابی کے لیے دعاگو رہتی ہیں لیکن اس معاملے میں ملازمت پیشہ خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور جب پاکستانی ٹیم کھیل رہی ہو تو وہ اس سے لاتعلق رہنے کے لئے تیار نہیں۔

شگفتہ ناز بیوٹیشن ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ان کے بیوٹی پارلر میں آنے والی خواتین اپنے حسن آرائش پر توجہ رکھنے کے ساتھ ساتھ کرکٹ پر بھی بات کرلیتی ہیں اور اگر میچ جاری ہو تو بڑی اسکرین پر میچ سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں یہ دلچسپی کچھ کم ہوئی ہے۔

شگفتہ ناز کو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست نہ دے سکی لیکن اس سے زیادہ انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ میچ فکسنگ کے الزامات سے سارے معاملے کو بلاوجہ متنازعہ بنادیاگیا۔

آمنہ آصف درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔ میرا ان سے سوال تھا کہ کیا واقعی خواتین کرکٹ میں دلچسپی لیتی ہیں یا وہ صرف کرکٹرز کی دیوانی ہوتی ہیں؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ خوبصورت اور اسمارٹ کرکٹرز ہر دور میں خواتین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہیروازم فلم اور کرکٹ میں ہی رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کرکٹ کی باریکیاں نہیں سمجھتیں۔ خواتین کو کھیل کی سمجھ بوجھ ہوتی ہے جبھی وہ اس سے لطف اندوز بھی ہوتی ہیں۔

اس سوال پر کہ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور چیمپئنز ٹرافی کے میچز رات گئے تک جاری رہتے تھے اس صورت میں گھرداری دفتری امور اور کرکٹ کے شوق میں توازن برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوتا تھا؟ آمنہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی حامی ہیں کہ گھر اور کام آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اگر یہ دونوں متاثر نہیں ہوتے تو پھر کرکٹ کا شوق پورا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

مرد حضرات پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ میچ کے دوران دفتروں میں کام کاج چھوڑ کر ٹی وی سے جڑ جاتے ہیں تو کیا ملازمت پیشہ خواتین بھی ایسا ہی کرتی ہیں؟ یہ سوال میں نے ایک ہسپتال کے انتظامی امور سنبھالنے والی ثنا دھنانی سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی کو اہمیت دینی پڑتی ہے لیکن میچ کا خیال بھی نہیں ہٹ رہا ہوتا ہے۔ لہذا موبائل فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے تازہ ترین اسکور جاننے کی جستجو رہتی ہے اور جب آفس کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو فوراً گھر پہنچنے کی فکر رہتی ہے کہ جلدی سے ٹی وی پر میچ دیکھ سکیں۔

ثنا دھنانی نے کبھی اسٹیڈیم جاکر میچ نہیں دیکھا کیونکہ ان کے خیال میں جو مزا سکون سے گھر پر میچ دیکھنے میں ہے وہ اسٹیڈیم میں نہیں۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی اسٹیشن ڈائریکٹر کنیز فاطمہ نے ایک طویل عرصے تک اپنے شہر میں ہونے والے ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کی کمنٹری کی نگرانی کی ہے لیکن ان کے لیے کرکٹ سے تعلق محض ڈیوٹی والا معاملہ نہیں۔ انہیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب انہوں نے کرکٹ میچ کی کوریج کی خواہش ظاہر کی تھی توان کے اعلی افسر حیران رہ گئے تھے کیونکہ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی خاتون پروڈیوسر بھی کرکٹ میچ کی براہ راست کوریج کرسکتی ہے۔

کنیز فاطمہ کے خیال میں خواتین میں کرکٹ کا شوق ہے اور وہ اس سے متعلق مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتی ہیں لیکن اس کا انحصار ملنے والے مواقع پر ہے۔ جیسا کہ اب ہورہا ہے کہ خواتین کرکٹ دیکھ ہی نہیں رہی ہیں بلکہ کھیل بھی رہی ہیں اور رہی بات میڈیا کی تو کمنٹری میں بھی خواتین آچکی ہیں اور تجزیہ نگاری میں بھی انہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔