
’پاور پلے پاکستانی ٹیم کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے‘ یونس خان
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ انہیں چیمپئنز ٹرافی نہ جیتنے کا ہمیشہ افسوس رہے گا کیونکہ وہ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بعد قوم کو ایک اور خوشخبری دینا چاہتے تھے۔
یونس خان نے جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر کراچی ائرپورٹ پر پریس کانفرنس میں کہاکہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹاپ فور میں آئی اور اس نے بھارت کو بھی بڑے عرصے کے بعد ملک سے باہر شکست دی لیکن وہ چاہتے تھے کہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان جیتے جو اس کا اصل میزبان تھا، لیکن سیمی فائنل میں قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ دوسری طرف بیٹنگ، فیلڈنگ اور کچھ امپائرنگ نے پاکستانی ٹیم کو جیتنے نہیں دیا۔
یونس خان نے کہا کہ وانڈررز کی وکٹ پر دوسو پچیس اچھا اسکور تھا بلکہ ایک مرحلے پر جب عمراکمل اور محمد یوسف بیٹنگ کررہے تھے تو دو سو پچاس سے زیادہ کا اسکور بنتا دکھائی دے رہا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
یونس خان نے کہا کہ اہم موقع پر ان سے کیچ ڈراپ ہونا بھی مہنگا ثابت ہوا جسے وہ عمر بھر نہیں بھول سکیں گے۔
پاکستانی ٹیم بیٹنگ اور بولنگ پاور پلے کا استعمال صحیح طور پر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بیٹنگ پاور پلے میں بیٹسمین جلدی آؤٹ ہوجاتے ہیں جبکہ بولنگ پاور پلے میں بولرز صحیح بولنگ نہیں کر پاتے
شاہد آفریدی
انہوں نے کہا کہ یہ درست ہےکہ سیمی فائنل میں عمرگل اور رانا نوید اچھی بولنگ نہ کرسکے لیکن یہی بولرز پاکستان کو سیمی فائنل تک لائے تھے۔ یونس خان نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ انہوں نے نیوزی لینڈ کو آسان سمجھا۔
پاکستانی کپتان نے کہا کہ پاور پلے پاکستانی ٹیم کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے حالانکہ یہ میدان میں موجود بیٹسمینوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس وقت اسے لیتے ہیں۔
ٹیم میں کسی تیسرے اوپنر کی غیرموجودگی کے بارے میں سوال پر یونس خان نے کہا کہ سلیکٹرز نے جو ٹیم انہیں دی تھی وہ انہوں نے میدان میں اتاری۔
نائب کپتان شاہد آفریدی نے وطن واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ’پاکستانی ٹیم بیٹنگ اور بولنگ پاور پلے کا استعمال صحیح طور پر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بیٹنگ پاور پلے میں بیٹسمین جلدی آؤٹ ہوجاتے ہیں جبکہ بولنگ پاور پلے میں بولرز صحیح بولنگ نہیں کر پاتے۔‘
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کو سیمی فائنل میں تین سو رنز حاصل کرنے چاہیے تھے لیکن نیوزی لینڈ کی بیٹنگ اور پاکستانی بولنگ دیکھتے ہوئے دو سو تنتیس رنز کا دفاع بھی ممکن تھا۔
© MMIX