Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 3 october, 2009, 16:24 GMT 21:24 PST

نیوزی لینڈ فائنل میں پاکستان باہر

شین بانڈ

کیوی بالروں نے پاکستانی بالروں کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا

جنوبی افریقہ میں جاری آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ پاکستان کو پانچ وکٹ سےشکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا۔

جاہنسبرگ کے وانڈرر گروانڈ پر کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پاکستانی بلے باز ایک بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے۔ پوری ٹیم دو سو تینتس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

اس میچ میں پاکستان کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کھیل کے تینوں شعبوں بالنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں اچھی نہیں رہی۔ کھیل کے دوران نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بھی واضح فرق دیکھنے میں آیا۔

بیٹنگ میں محمد یوسف کو چھوڑ کر تمام سنیئر کھلاڑی کپتان یونس خان، شاہد آفریدی اور شعیب ملک بری طرح ناکام رہے اور تینوں کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر صرف بیس رن بنائے۔

بالنگ میں بھی سینئر گیند باز رانا نوید اور عمر گل اچھی بالنگ نہیں کر سکے۔ نیوزی لینڈ کی اننگز کے آخری اوورز میں عمر گل کے ایک اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگا۔ جبکہ رانا نوید نے ایک ہی اوور میں دو مرتبہ نو بال پھینکی۔

عمر اکمل کا ایل بی ڈبلیو کا ایمپائر کا غلط فیصلہ اور کپتان یونس خان کا میچ کے انتہائی اہم مرحلے میں ایک بہت ہیں آسان کیچ چھوڑ دینا میچ میں دو ایسے موقعے تھے جن کو پاکستان کی شکست کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے عمران نذیر اور کامران اکمل نے اننگز کا آغاز کیا۔ اس میچ میں پہلی مرتبہ عمران نذیر بھی محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے نظر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے اپنے روائتی انداز سے ذرا ہٹ کر احتیاط سے رن بنانا شروع کیئے۔

اننگز کے نویں اوور میں پاکستان کا سکور جب چھیالیس رن پر پہنچا تو عمران نذیر شین بانڈ کے ایک باونسر پر ٹیلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد شعیب ملک کھیلنے آئے۔ شعیب ملک ابھی دو رن ہی بنا پائے تھے کے بٹلر کی ایک آف سٹمپ سے باہر گری ہوئی گیند کو کھیلتے ہوئے سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ شعیب ملک کے اس شاٹ سے ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ اسے باریک کٹ لگا کر چار بنانا چاہتے تھے۔ لیکن سلپ کی موجودگی میں ان کا یہ شاٹ سمجھ سے بالاتر تھا۔

جس وقت شعیب پویلین کی طرف لوٹ رہے تھے اسوقت سکور بورڈ پر پاکستان کا مجموعی سکور اکسٹھ رن تھا۔ شعیب کے آؤٹ ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد کامران اکمل بھی آؤٹ ہو گئے۔ کامران نے اٹھائیس رن بنائے اور ان کی وکٹ بھی بٹلر نے لی۔ کامران اکمل ایک اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے ان کا کیچ ریڈمنڈ نے لیا۔

انہتر کے سکور پر تیسری وکٹ کے گرنے کے بعد پاکستان کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ سیمی فائنل مقابلے اور دباؤ کی صورت حال میں کپتان یونس خان کی طرف سے جب ٹیم کو اچھی اننگز کی ضرورت تھی وہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے۔

کپتان یونس خان پندرہ رن ہی بنا پائے تھے جب ڈینیل ویٹوری کی ایک آسان سی گیند پر دفاعی شاٹ کھیلتے ہوئے انہوں نے ٹیلر کے ہاتھوں میں کیچ اچھال دیا۔ یونس خان نے تیئس گیندوں کا سامنا کیا۔ یونس خان کی وکٹ اکیسویں اوور میں گری اور اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور صرف چھیاسی رن تھا۔

یونس خان کے بعد محمد یوسف کے ساتھ دینے کے لیے عمر اکمل میدان میں اترے۔ نوجوان کھلاڑی عمر اکمل کے آنے سے کھیل میں جان پیدا ہوئی اور کچھ شاٹ لگنے شروع ہوئے جو کپتان یونس خان کی کریز پر موجودگی میں بالکل تھم گئے تھے۔

محمد یوسف اور عمر اکمل نے پاکستان کے سکور کو ایک سو چھیاسٹھ پر پہنچا دیا۔ جب انتالیسویں اوور میں محمد یوسف کائلی مائلز کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ انہوں نے پینتالیس رن سکور کیئے۔ اس کے فوراً ہی بعد عمر اکمل کو ایمپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ انتہائی مشکوک تھا اور ٹی وی ری پلیز میں واضح طور گیند عمر اکمل کے بلے کو لگ کر پیڈوں پر لگی تھی۔

عمر اکمل کو آؤٹ قرار دیئے جانے کا فیصلہ پاکستان کی اننگز کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ عمر اکمل جب مکمل طور پر سیٹ ہو چکے اور جارحانہ انداز میں شاٹ کھیل رہے تھے انہیں آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ اس وقت ان کا ذاتی سکور پچپن اور پاکستان کا مجموعی سکور ایک سو اکاسی رن تھا۔ عمر اکمل نے اپنے پچپن رن باسٹھ گیندوں پر بنائے جس میں سات چوکے بھی شامل تھے۔

محمد یوسف کے آؤٹ ہونے کے بعد شاہد آفریدی کھیلنے آئے تھے لیکن وہ چار رن ہی بنا پائے کہ ایک سو تراسی کے مجموعی سکور پر بٹلر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ شاہد آفریدی کی وکٹ اکتالیسویں اوور میں گری۔ اب پاکستان کی بڑا سکور کرنے کی امیدیں بالکل معدوم ہو چکی تھیں۔

پاکستان کی اننگز کے ترتالیسویں اوور میں عمر گل کی وکٹ گری اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور ایک سو بانوے رن تھا۔ ایک سو اٹھانوے کے مجموعی سکور پر رانا نوید آؤٹ ہو گئے۔

تاہم اس کے بعد دو نوجوان کھلاڑی سعید اجمل اور محمد عامر کے درمیان شراکت شروع ہوئی۔ اس وقت تک پاکستان کی اننگز کے چوالیس اوور ہو چکے تھے۔ محمد عامر اور سعید اجمل کے درمیان پینتس رن کی شراکت ہوئی اور آخر چھ اوور میں انہوں نے پاکستان کے سکور کو دو سو تینتس تک پہنچا دیا۔ محمد عامر نے انیس اور سیعد اجمل نے چودہ رن بنائے اور دنوں کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوئے۔ محمد عامر نے اپنے انیس رن صرف بیس گیندوں پر بنائے جس میں تین چوکے بھی شامل تھے۔ سعید اجمل نے سترہ گیندوں کا سامنا کیا اور دو چوکے لگائے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے بٹلر سب سے کامیاب بالر رہے انہوں نے دس اوور میں چوالیس رن دے کر چار وکٹ حاصل کیئں۔ ویٹوری نے دس اوور میں ترتالیس رن دے کر تین وکٹ حاصل کیئں۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے میکیلم اور ریڈمینڈ نے کھیل کا آغاز کیا۔

نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بھی متحاط تھے۔ پہلے چار اوور میں انہوں نے بائیس رن بنائے تھے جب ان کی پہلی وکٹ گری۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھے میکلم اور گیند تھی محمد آصف کی۔ میکلم کا کیچ شاہد آفریدی نے پکڑا۔

عمران نذیر

عمران نذیر نے اپنی مختصر اننگز میں چھ چوکے لگائے

پاکستان کی طرف سے محمد عامر اور رانا نوید نے بالنگ کا آغاز کیا تھا اور نویں اوور کے بعد بالنگ میں پہلی تبدیلی کی گی۔ عمر گل کو گیند کرنے کے لیے بلایا گیا۔ عمر گل نے پہلی ہی گیند پر گپتل کو آوٹ کر دیا ان کا کیچ رانا نوید نے پکڑا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعی سکور صرف ترتالیس تھا۔

اس کے سہولویں اوور میں اکہتر کے مجموعی سکور پر ریڈمینڈ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے پچپن گیند پر اکتیس رن بنائے۔ ان کو سیعد اجمل نے اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔

نیوزی لینڈ کی فتح میں ایلیٹ کی اننگز بہت اہم رہی جنہوں نے پچہتر رن بنائِے۔ ایلیٹ کا بہت ہی آسان کیچ کپتان یونس خان نے انہتائی اہم مرحلے پر چھوڑ دیا۔ ایلیٹ اس کے بعد ناٹ آؤٹ رہے۔ اس کیچ کو مبصرین نے ’ڈولی‘ قرار دیا۔

ایلیٹ نے اس کیچ کے بعد عمر گل کے ایک اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگایا جس کے بعد میچ واضح طور نیوزی لینڈ کے حق میں ہو گیا۔

کلِک پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: تصاویر میں

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کے کپتان ڈنیئل وٹوری چھیالیسویں اوور میں سیعد اجمل کی ایک گیند پر سٹمپ ہو گئے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی اور میچ پر نیوزی لینڈ کی گرفت انہتائی مضبوط تھی۔

پاکستان کی طرف سے محمد عامر نے دس اوور میں بتیس رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی جبکہ سعید اجمل نے آٹھ اوور میں انتالیسں رن دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عمر گل اور شاہد آفریدی نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی۔رانا نوید سب سے مہنگے ثابت ہوئے انہوں نے آٹھ اوور میں ستاون رن دیئے۔

پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور محمد آصف اور مصباح الحق کی جگہ فاسٹ بالر محمد عامر اور اوپنر عمران نذیر کی واپسی ہوئی ہے۔نیوزی لینڈ کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور بلے باز آرون ریڈمنڈ کوگیرتھ ہاپکنز کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم: یونس خان (کپتان)، عمران نذیر، کامران اکمل(وکٹ کیپر)، شعیب ملک، محمد یوسف، عمر اکمل، شاہد آفریدی، رانا نوید، عمر گل، سعید اجمل، محمد عامر

نیوزی لینڈ کی ٹیم: برینڈن میکلم (وکٹ کیپر)، آرون ریڈمنڈ، مارٹن گپتل، راس ٹیلر، گرانٹ ایلئٹ، نیل بروم، جیمز فرینکلن، ڈینیئل ویٹوری (کپتان)، کائل ملز، شین بونڈ، ایئن بٹلر

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔