Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 2 october, 2009, 10:23 GMT 15:23 PST

’نیوزی لینڈ ایک آسان حریف نہیں‘

انتخاب عالم

بہترین اٹیک کے ساتھ میدان میں اترین گے:انتخاب عالم

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیوزی لینڈ کے بلےباز سپنرز کو اچھی طرح نہ کھیلنے کے لیے جانے جاتے ہیں تاہم نیوزی لینڈ کو آسان حریف سمجھنا غلط ہوگا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ پہنچی تھی تو پنڈتوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے آسٹریلیا، بھارت اور جنوبی افریقہ کو فیورٹ قرار دیا تھا لیکن اب پاکستان، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل میں موجود ہیں۔

انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی طور کمزور نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ وہ ایک اچھی ٹیم ہے جبھی سیمی فائنل تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے اپنے لیے جو ہدف مقرر کیا تھا وہ اس تک پہنچی ہے۔’سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ٹیم صحیح وقت پر کلک کرے۔ کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے اور ہر میچ میں وہ اچھا کھیلے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا سیمی فائنل جوہانسبرگ میں ہے جہاں کی وکٹ اور موسم سنچورین سے مختلف ہے‘۔ خیال رہے کہ یہ میچ اسی وکٹ پر ہوگا جس پر ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان میچ ہوا تھا۔

پہلے یہ مشکل ہوتی تھی کہ کسے کھلائیں اب مشکل ہے کہ کسے بٹھائیں۔

انتخاب عالم،پاکستانی کوچ

انتخاب عالم نے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نیوزی لینڈ کے بیٹسمین ورلڈ کلاس سپن بولنگ پر ہمیشہ مشکل سے دوچار ہوئے ہیں اور اس وقت پاکستان کے پاس سعید اجمل، شاہد آفریدی اور شعیب ملک کی شکل میں اچھے اسپنرز موجود ہیں۔

پاکستانی کوچ نے تسلیم کیا کہ سیمی فائنل کے لیے ٹیم سلیکشن آسان نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے یہ مشکل ہوتی تھی کہ کسے کھلائیں اب مشکل ہے کہ کسے بٹھائیں؟‘ تاہم وہ بہترین ٹیم کے ساتھ وہ میدان میں اتریں گے۔

سابق کپتان رمیز راجہ بھی سپن بولنگ کو نیوزی لینڈ کی بڑی کمزوری قرار دیتے ہیں تاہم وکٹ اور موسم کو دیکھتے ہوئے وہ نیوزی لینڈ کو کسی طور نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں کے لیے معاملہ ففٹی ففٹی ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ چاہے کیسی ہی ہو پاکستان کو اپنے سپن اٹیک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔

وکٹ چاہے کیسی ہی ہو پاکستان کو اپنے سپن اٹیک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے

رمیز راجہ

انہوں نے کہا کہ ’محمد آصف کی واپسی اچھے انداز میں ہوئی لیکن دیکھنا ہوگا کہ طویل غیرحاضری کے بعد ایک میچ کھیلنے سے ان کی فٹنس پر کیا اثر پڑا ہے۔ عمرگل کو باہر بٹھانا رسک ہوگا۔جو کنڈیشن ہے اس میں یونس خان بھی بولنگ کرسکتے ہیں جس طرح نیوزی لینڈ کے گرانٹ ایلیٹ نے کی تھی۔جہاں تک بیٹنگ کا تعلق ہے تو یہی نظر آتا ہے کہ عمران نذیر کے لیے مصباح الحق کو ہی جگہ خالی کرنی ہوگی‘۔

پاکستانی بیٹسمینوں کے بارے میں رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ان میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے اور ’سینئر بیٹسمینوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اگر وہ رنز کی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور ٹیم کا وقت بھی ضائع کرتے ہیں تو انہیں یا تو رسک لینا چاہیے یا پھر غیرضروری طور پر وکٹ پر ٹھہرنے کے بجائے وکٹ کی قربانی دے دینی چاہیے تاکہ جو دوسرا بیٹسمین آئے وہ حالات کے مطابق کارآمد اننگز کھیل سکے‘۔

انہوں نے عمراکمل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس نوجوان بیٹسمین کا ٹیلنٹ صحیح طور پر سامنے نہیں آسکا ہے اور اس کا استعمال صحیح انداز سے نہیں ہوسکا ہے کیونکہ اسے سینئر بیٹسمینوں کی موجودگی میں پوری بیٹنگ نہیں مل سکی ہے۔ رمیز راجہ نے 1992 کے عالمی کپ میں انضمام الحق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹیلنٹ عمران خان دیکھ کر انہیں اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کے لیے بھیجا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔