Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 2 october, 2009, 07:39 GMT 12:39 PST

’صرف سچن پر انحصار صحیح نہیں‘

سچن تندولکر

’وہ وقت آ جانا چاہیے تھا کہ انڈیا کی ٹیم سچن کے بغیر بھی جیتنے کی عادت ڈالے‘

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں شکست کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے بطور ٹیم کارکردگی دکھانے کی بجائے انفرادی طور پر کھلاڑیوں پر انحصار کرنا شکست کی وجہ بنا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم چند ماہ کے عرصے میں آئی سی سی کے دو بڑے مقابلوں میں ابتدائی راؤنڈ سے آگے نہیں جا سکی ہے۔ پہلے آئی سی سی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دفاع چیمپئن ہونے کے باوجود بھارتی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی پانے میں ناکام رہی تھی اور اب چیمپئنز ٹرافی میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سلسلے میں بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ ٹیم سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ٹیم میں آل راؤنڈر کھلاڑیوں پر دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں بہت مایوس ہوا ہوں مگر اسی کے ساتھ ساتھ بات یہ نہیں ہے کہ آپ کسی ٹورنامنٹ میں کس درجے پر آئے یا آپ کی رینکنگ کیا ہے بلکہ دیکھنا یہ ضروری ہے کہ ٹیم کیسا کھیل رہی ہے‘۔

مہندر سنگھ دھونی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انہیں اپنی ٹیم کی بولنگ اور فیلڈنگ پر خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

میرے خیال میں ان کی بالنگ بہت کمزور ہوگئی ہے۔ ظہیر خان ہیں نہیں اور ایشانت شرما جو ایک وقت میں لگتا تھا کہ دنیا کے بہترین بالر بننے والے ہیں، ان کی بالنگ کی کاٹ اور تیزی ختم ہو گئی ہے۔ آر پی سنگھ اچھی بال کر نہیں رہے ہیں اس لیے میرے خیال میں اور پھر بلے بازی میں سہواگ اور یوراج کی عدم موجودگی نے بھارتی بلے بازی کو متاثر کیا ہے۔

پردیپ میگزین

پاکستان کے سابق کپتان اور کرکٹ تجزیہ کار وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار ایسا لگا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی باڈی لینگویج پہلے جیسی نہیں تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ’ باہر سے جائزہ لینے والے ایک شخص کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پہلی مرتبہ مجھے ایسا لگا کہ نہ صرف بھارتی ٹیم کی باڈی لینگویج پہلے جیسی نہیں ہے بلکہ خود کپتان دھونی کا ٹیم سے تال میل صحیح نہیں تھا‘۔

کرکٹ تجزیہ کار پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ بھارتی شکست کی وجہ کمزور بالنگ تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ان کی بالنگ بہت کمزور ہوگئی ہے۔ ظہیر خان ہیں نہیں اور ایشانت شرما جو ایک وقت میں لگتا تھا کہ دنیا کے بہترین بالر بننے والے ہیں، ان کی بالنگ کی کاٹ اور تیزی ختم ہو گئی ہے۔ آر پی سنگھ اچھی بال کر نہیں رہے ہیں اس لیے میرے خیال میں اور پھر بلے بازی میں سہواگ اور یوراج کی عدم موجودگی نے بھارتی بلے بازی کو متاثر کیا ہے‘۔

پہلی مرتبہ مجھے ایسا لگا کہ نہ صرف بھارتی ٹیم کی باڈی لینگویج پہلے جیسی نہیں ہے بلکہ خود کپتان دھونی کا ٹیم سے تال میل صحیح نہیں تھا‘۔

وسیم اکرم

اس سوال پر کہ سچن تندولکر جیسے بڑے کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کو انڈیا کی شکست کی اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے، پردیپ میگزین نے کہا کہ ’اس ٹورنامنٹ میں ایسا کچھ نہیں تھا کیونکہ جب سچن ویسٹ انڈیز کے خلاف نہیں کھیلے تو بھارت پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا تھا لیکن عموماً دیکھا جائے تو سچن کا کھیلنا انڈیا کی لیے بہت ضروری ہوگیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سری لنکا کے خلاف جو ہم نے سیریز جیت کے آئے ہیں تو وہاں سچن کی سنچری کی بدولت ہی ہم جیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سچن کا ٹیم میں شامل ہونا ٹیم پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ لیکن اب تک وہ وقت آ جانا چاہیے تھا کہ انڈیا کی ٹیم سچن کے بغیر بھی جیتنے کی عادت ڈالے اور اگر ہم اب بھی سچن پر انحصار کر رہے ہیں تو یہ انڈیا کے لیے اچھی چیز نہیں ہے‘۔

پریدپ میگزین کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم چاہتے ہیں کہ انڈیا نمبر ون رہے تو پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور اب چیمپئنز ٹرافی کے جو آئی سی سی کا دوسرا بڑا ٹورنامنٹ ہے، سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی نہ کرنا ہمارے لیے فکر کا باعث ہونا چاہیے‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔