
جنوبی افریقہ کی اتھلیٹ کاسٹر سمینیا کی جنس کے متعلق تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
متنازع عالمی چیمپئن ایتھلیٹ کاسٹر سمینیا کی جنس کے تعین کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ کے معاملے پر دروغ گوئی کے باوجود جنوبی افریقہ کی ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر لیونارڈ شونے کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا۔
لیونارڈ شونے نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اگست میں آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے قبل کاسٹر سمینیا کے ٹیسٹوں کے بارے دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔
جنوبی افریقہ میں کھیلوں کے نائب وزیر گرٹ اوستھوئی زین نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ادارہ ایک جھوٹے کی قیادت میں کام کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے‘۔
تاہم اب جنوبی افریقہ کی ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن نے لیونارڈ شونے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو ایسوسی ایشن کے کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن ’ متفقہ طور پر تنظیم کی موجودہ قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے‘ْ۔
لیونارڈ شونے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم جنوبی افریقہ کے اپوزیشن اتحاد نے اس بیان کو ’بے حد مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔
سمینیا کے طلائی تمغہ جیتنے کے بعد کھیلوں کے عالمی ادارے آئی اے اے ایف کی گورننگ باڈی نے جب سمینیا کی جنس کے بارے میں شک رفع کرنے کے لیے جنسی معائنہ کرانے کی بات کی تھی تو شونے نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
سمینیا کی جنس کے تعین کے لیے ٹیسٹ کرانے کا معاملہ ذرائع ابلاغ میں دوڑ کے باقاعدہ نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل ہی افشا ہو گیا تھا۔ آئی اے اے ایف سمینیا کے مزید ٹیسٹوں کے احکامات دے چکی ہے اور بی بی سی سپورٹس کا خیال ہے کہ اس سے انہی نتائج کی توقع ہے کہ سمینیا ایسا بین الجنسی وجود ہیں جس میں مردانہ اور زنانہ دونوں طرح کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
© MMIX