
2009 کی چیمپئنز ٹرافی جنوبی افریقہ میں منعقد ہو رہی ہے
چھ کرکٹ ورلڈ کپ مقابلوں کے انعقاد کے بعد آئی سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے لیے محدود اوورز کے دوسرے عالمی مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا۔ آئی سی سی کے ایسوسی ایٹ ممبران کے لیے رقم جمع کرنے کی غرض سے 1998 اور 2000 میں آئی سی سی ناک آؤٹ ٹرافی منعقد ہوئی۔ سنہ 2002، 2004 اور 2006 میں یہ مقابلے چیمپئنز ٹرافی کے نام سے منعقد ہوئے۔ تاہم سنہ 2008 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے مقابلے سکیورٹی کی وجہ سے ایک برس کے لیے ملتوی کر دیے گئے اور اب یہ مقابلے جنوبی افریقہ میں منعقد ہو رہے ہیں۔

ہنسی کرونیے پہلی ناک آؤٹ ٹرافی کے ہمراہ
سنہ انیس سو اٹھانوے میں اگرچہ بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھا تاہم اسے آئی سی سی ناک آؤٹ ٹرافی کی میزبانی دی گئی۔ ان مقابلوں می نو ممالک شریک ہوئے اور فائنل میں آنجہانی ہنسی کرونیے کی قیادت میں جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دی۔
سنہ 2000 کے مقابلوں میں ٹیسٹ کرکٹ سٹیٹس کے حامل نو ممالک کے علاوہ بنگلہ دیش اور کینیا نے بھی حصہ لیا اور فائنل میں کرس کینز کی ناقابلِ شکست سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ نے انڈیا کو شکست دے کر یہ اعزاز حاصل کیا۔ یہ آئی سی سی کے کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کی پہلی فتح تھی۔

انڈیا اور سری لنکا مشترکہ فاتح قرار پائے
سنہ 2002 میں سری لنکا میں منعقدہ ان مقابلوں کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا نیا نام اور نیا فارمیٹ دیا گیا۔ اس برس ان مقابلوں میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے دس ممالک کے علاوہ کینیا اور ہالینڈ بھی شریک ہوئے۔ بارہ ٹیموں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ان گروپوں کے فاتح سیمی فائنل کھیلنے کے حقدار ٹھہرے۔
سیمی فائنل میں انڈیا نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا نے آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تاہم دو دن تک بارش سے میچ متاثر ہونے کے بعد دونوں ٹیموں کو اس ٹورنامنٹ کا مشترکہ فاتح قرار دیا گیا۔

2004 کے مقابلوں کی فاتح ویسٹ انڈین ٹیم ٹھہری
سنہ 2004 میں چیمپئنز ٹرافی پہلی مرتبہ انگلینڈ میں منعقد ہوئے اور سنہ 1992 کے بعد انگلش ٹیم پہلی مرتبہ کسی بڑے مقابلے کے فائنل میں پہنچنے میں بھی کامیاب رہی۔
سنہ 2002 کے فارمیٹ پر ہی کھیلے جانے والے ان مقابلوں میں انگلینڈ، آسٹریلیا، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں سیمی فائنل تک رسائی پانے میں کامیاب رہیں۔پہلے سیمی فائنل میں مارکس ٹریسکوتھک اور مائیکل وان کی عمدہ بلے بازی کی بدولت انگلینڈ نے آسٹریلیا کو شکست دی تو دوسرے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ایک سو اکتیس رنز سے ہرایا۔
اوول میں کھیلا گیا فائنل سنسنی خیز ثابت ہوا اور دو سو سترہ رن پر آؤٹ ہونے کے بعد انگلینڈ نے چونتیس اوور میں صرف ایک سو سینتالیس کے مجموعی سکور پر ویسٹ انڈیز کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ کر دیے۔ تاہم نویں وکٹ کے لیے بالر ایئن بریڈ شا اور وکٹ کیپر کورٹنی براؤن کی اکہتر رنز کی شراکت نے ویسٹ انڈیز کو چیمپئن بنوا دیا۔

آسٹریلیا نے پہلی مرتبہ 2006 میں چیمپئنز ٹرافی جیتی
سنہ 2006 کے چیمپئنز ٹرافی مقابلے انڈیا میں منعقد ہوئے اور اس مرتبہ ایک بار پھر ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بدل دیا گیا۔ نئے فارمیٹ کے مطابق آئی سی سی ایک ون ڈے رینکنگ کی ٹاپ چھ ٹیمیں ان مقابلوں میں شرکت کی براہِ راست اہل قرار پائیں جبکہ دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز اور سری لنکا نے کوالفائنگ راؤنڈ کے ذریعے ان مقابلوں تک رسائی پائی۔
راؤنڈ رابن طرز پر کھیلے گئے مقابلوں میں کوئی بھی ایشیائی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکی۔
پہلے سیمی فائنل میں 1999 اور 2003 کا عالمی کپ جیتنے والی ان فارم آسٹریلوی ٹیم نے نیوزی لینڈ کو چونتیس رنز سے جبکہ دوسرے میچ میں دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ فائنل میں ویسٹ انڈین ٹیم آسٹریلیا کی تباہ کن بالنگ کا سامنا نہ کر سکی اور آسٹریلیا نے باآسانی یہ میچ آٹھ وکٹ سے جیت کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

رکی پونٹنگ اس ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر رہے
سنہ 2009 کے چیمپئنز ٹرافی مقابلے ایک برس کی تاخیر سے جنوبی افریقہ میں منعقد ہوئے۔ ان مقابلوں کا انعقاد شیڈول کے مطابق سنہ 2008 میں پاکستان میں ہونا تھا تاہم سکیورٹی خدشات کی بناء پر پہلے تو انہیں موخر کیا گیا اور پھر پاکستان سے ان مقابلوں کی میزبانی بھی واپس لے لی گئی۔
2009 کی چیمپئنز ٹرافی میں دنیائے کرکٹ کی ٹاپ آٹھ ٹیموں نے شرکت کی جنہیں چار، چار کے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان مقابلوں میں سیمی فائنل تک رسائی کے لیے آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ اور انڈیا کے نام سامنے آ رہے تھے لیکن آسٹریلیا کے علاوہ ابتدائی درجوں پر موجود کوئی بھی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی۔
گروپ اے میں آسٹریلیا نے پہلی جبکہ پاکستان نے دوسری اور گروپ بی میں نیوزی لینڈ نے پہلی جبکہ انگلینڈ نے دوسری پوزیشن حاصل کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد نو وکٹ سے شکست دی جبکہ دوسرا سیمی فائنل نیوزی لینڈ نے پاکستان کو پانچ وکٹ سے ہرا کر جیتا۔
سنچورین میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو چھ وکٹ سے شکست دے کر لگاتار دوسری بار چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
© MMIX