
’آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کی متعدد باتیں مان چکی ہے‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ اگر ورلڈ کپ کے مشترکہ میزبان پاکستان سے تعاون کرتے تو اسے چودہ میچوں کی میزبانی سے محروم نہ ہونا پڑتا۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کا نیا فیوچر ٹور پروگرام ( ایف ٹی پی ) مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ کی مدد کے لئے تشکیل دی جانے والی ٹاسک فورس میں دو ارکان کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کی متعدد باتیں مان چکی ہے جن میں میزبانی فیس بھی شامل ہے لیکن جہان تک چودہ میچوں کی میزبانی کا تعلق ہے اس بارے میں اس نے پاکستان کی یہ تجویز مسترد کردی کہ یہ میچز ’ آف شور وینیوز‘ پر کرادیے جائیں۔
اعجاز بٹ نے کہا کہ آئی سی سی کہتی ہے کہ ’باقی لوگ‘ نہیں مان رہے جب انہوں نے آئی سی سی سے ان ’باقی لوگ ‘ کے بارے میں استفسار کیا تو پتہ چلا کہ وہ ہمارے ہی ایشیائی ساتھی بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کوئی سری لنکا جانے کے لئے تیار نہیں تھا پاکستانی ٹیم وہاں گئی۔ جب بنگلہ دیش کو تنہا کیا جارہا تھا تو پاکستان نے اس کی مدد کی۔
اس سوال پر کہ ان ملکوں نے پاکستان سے آنکھیں کیوں پھیر لی ہیں؟ اعجاز بٹ نے کہا کہ یہ آپ ان ہی سے معلوم کریں۔

پاکستان نے نیے ایف ٹی پی پر اپنی تشویش سے آئی سی سی کو آگاہ کر دیا ہے
اعجاز بٹ نے کہا کہ نئے فیوچر ٹور پروگرام میں بھی پاکستان کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان نے اس بات کی بھی سختی سے مخالفت کی کہ ایف ٹی پی میں پاکستان اور بھارت کے میچز نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کے اجلاس میں چار ملکوں نے بین الاقوامی کرکٹ پروگرام پر مبنی جو نیا ایف ٹی پی پیش کیا اس پر پاکستان نے اپنی تشویش سے آئی سی سی کو آگاہ کردیا ہے کیونکہ اس میں پاکستان کو غیراہم سمجھاگیا ہے۔
سلیم الطاف نے کہا کہ آئی سی سی نے اس ایف ٹی پی پر غور کرنے کے لئے وقت مانگا ہے اور اس نے پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ کو متاثر کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سلیم الطاف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی ٹاسک فورس کے دو ارکان کے بارے میں بھی اپنے تحفظات سے آئی سی سی کو آگاہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے پانچ رکنی ٹاسک فورس پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کرنے کے لئے تشکیل دی ہے۔
سلیم الطاف نے کہا کہ یہ ٹاسک فورس پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف سننے جلد یہاں آئے گی۔
سلیم الطاف نے کہا کہ پاک بھارت کرکٹ روابط دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آنے سے مشروط ہیں۔ موجودہ ایف ٹی پی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ٹیسٹ سیریز تھی جو بھارت نے منسوخ کردی۔ اگلی ٹیسٹ سیریز دو ہزار تیرہ میں ہونی ہے۔
© MMIX