
محمد یوسف دسمبردو ہزار سات کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے ہیں
مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی آسان نہیں بلکہ سخت چیلنج ہے کیونکہ وہ ڈیڑھ سال سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے ہیں لیکن وہ خود کو جلد حالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرینگے۔
واضح رہے کہ محمد یوسف پیر کو سری لنکا کے دورے کے لیے اعلان کردہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کرلیے گئے ہیں۔ وہ آئی سی ایل چھوڑ کر دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے ہیں۔
محمد یوسف نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ سے کچھ عرصہ دور رہ کر واپس آنا آسان نہیں ہوتا۔ انہیں بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ وہ دسمبر2007ء کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے ہیں تاہم ان کی کوشش ہوگی کہ جتنا جلد ہوسکے وہ سری لنکن دورے میں خود کو ایڈجسٹ کرکے ٹیم کے کام آسکیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ دسمبر2006 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریوں کے بعد سے محمد یوسف آخری بارہ اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں بناسکے ہیں۔
محمد یوسف79 ٹیسٹ میچوں میں 6770 رنز بنا چکے ہیں جو جاوید میانداد کے8832 اور انضمام الحق کے8829 رنز کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔
محمد یوسف نے ٹیسٹ کرکٹ میں 23 سنچریاں بنا رکھی ہیں جو جاوید میانداد کے برابر اور انضمام الحق کی سب سے زیادہ 25 سنچریوں کے ریکارڈ سے صرف دو کم ہیں۔
اس سوال پر کہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر کیا وہ ان دونوں بیٹسمینوں کے ریکارڈز توڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ محمد یوسف نے کہا کہ وہ ریکارڈز کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ پاکستانی ٹیم میچ جیتے اور اس میں ان کی کارکردگی نظر آئے۔
محمد یوسف نے کہا کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی جیت پاکستانی کرکٹ کا ایک اہم واقعہ ہے اور یہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس کا کریڈٹ کپتان یونس خان کو جاتا ہے۔
انہوں نے عبدالرزاق کی بولنگ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بھی کافی عرصے کے بعد پاکستانی ٹیم میں واپس آئے ہیں اور فائنل میں تین قیمتی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
واضح رہے کہ عبدالرزاق بھی آئی سی ایل سے قطع تعلق کر کے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے ہیں۔
© MMIX