Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 22 june, 2009, 21:37 GMT 02:37 PST

جیت سے دنیا کو بھرپور پیغام

سابق کھلاڑیوں نے اس فتح کو بہت ہی اہم قرار دیا ہے کیونکہ پاکستانی کرکٹ کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل وقت ہے

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے خیال میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت کر دنیا کو ایک بھرپور پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو کسی طور بھی تنہا نہیں رکھا جاسکتا اور وہ کرکٹ کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت ایک مثبت اور بھرپور پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے۔ جن مشکل حالات سے اس وقت پاکستانی کرکٹ گزر رہی ہے اس میں اس جیت کی اشد ضرورت تھی بلکہ اس جیت نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

اس جیت کو محض ایک کرکٹ جیت کے طور پر نہیں دیکھناچاہیے بلکہ اس کے گہرے اثرات ملکی تاریخ پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ پوری قوم کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔

سابق کپتان عامر سہیل

رمیز راجہ نے کہا کہ وہ اس جیت کو1992 کےورلڈ کپ کی جیت سے زیادہ بڑی اور اہم کامیابی سمجھتے ہیں کیونکہ اس ٹیم کو کوئی بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا اور سب سے اہم بات یہ کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کے بارے میں جو منفی رائے دنیا میں قائم کی گئی ہے اس میں یہ جیت منفی سوچ کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ اس جیت کو محض ایک کرکٹ جیت کے طور پر نہیں دیکھناچاہیے بلکہ اس کے گہرے اثرات ملکی تاریخ پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ پوری قوم کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔

یہ جیت ایک مثبت اور بھرپور پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے سے شائقین کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی اس جیت کے بعد اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔

سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ 1992 ورلڈ کپ کے بعد قوم کو سترہ سال بعد ایک زبردست خوشی ملی ہے اور اس سے بڑا تحفہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

انضمام الحق کے خیال میں ٹیم نے ابتدائی میچوں میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے بعد کلک کیا اور مشکل حالات میں اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے میچز جیتے یہ چیز ٹیم اسپرٹ ظاہر کرتی ہے۔

’ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں گھرا نظرآتا ہے اس صورتحال میں یہ جیت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہے‘

انہوں نے کہا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں بولرز اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اس ایونٹ میں بھی عمرگل محمد عامر شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے ذمہ دارانہ بولنگ کی۔ سعید اجمل نے کسی بھی بیٹسمین کو آزادانہ سٹروکس نہیں کھیلنے دیے۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کا منفرد اعزاز رکھنے والے جلال الدین کے خیال میں اس وقت ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں گھرا نظرآتا ہے اس صورتحال میں یہ جیت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی جیت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ابتدا میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی لیکن بعد میں اس نے جس طرح فائٹ بیک کی اور عمدہ کارکردگی سے میچز جیتے وہ خوش آئند ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔