
اس سے پہلے پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھی آئی سی سی کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا تھا ۔
آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی ورلڈ کپ 2011ء کی میزبانی سے پاکستان کو محروم کئے جانے کے لیے بھارت کوذمہ دار قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت دوسرے ملکوں پر کتنا اثرانداز ہورہا ہے اس کا اندازہ آئی سی سی کے موجودہ رویئے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
احسان مانی نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ 2011ء کے عالمی کپ کی میزبانی سے پاکستان کو محروم کئے جانے کا آئی سی سی کا فیصلہ یکطرفہ ، قبل از وقت اور ناقابل فہم ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پر قانونی چارہ جوئی کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ غلط نہیں کیونکہ حق کے لئے کبھی کبھی لڑنا بھی پڑتا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔
احسان مانی نے کہا کہ وہ بڑے وثوق سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے پاکستان کو الگ کرنے میں بھارت کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ اس نے یہ سوچ رکھا تھا کہ یہ ورلڈ کپ اس کے یہاں ضرور منعقد ہو، پاکستان چاہےاس کی میزبانی کرے یا نہیں۔
احسان مانی نے کہا کہ بھارت نے سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت دوسرے ملکوں پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا اس کا اندازہ آئی سی سی کے رویئے سے لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال باعث تشویش ہے کہ بیس سال سے بھارت اور پاکستان کرکٹ میں مل کر کام کر رہے تھے اب یہ ایسا نہیں ہے۔
احسان مانی نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ 2011ء کے عالمی کپ کی میزبانی سے پاکستان کو محروم کئے جانے کا آئی سی سی کا فیصلہ یکطرفہ ، قبل ازوقت اور ناقابل فہم ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پر قانونی چارہ جوئی کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ غلط نہیں کیونکہ حق کے لئے کبھی کبھی لڑنا بھی پڑتا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے ورلڈ کپ کی میزبانی واپس لینے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی اور نہ ہی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے اپنے ماہرین پاکستان بھیجنے کی زحمت کی جبکہ ابھی اس میں بھی کافی وقت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش نے اپنے خراب حالات کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی میزبانی نہیں کی۔ سری لنکا کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان نہیں بھیجی۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت ممکن نہ ہوسکی یہ تمام حالات آئی سی سی نے یکسر نظرانداز کردیئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ورلڈ کپ ایشیا میں ہوا تو یہ کیسا ورلڈ کپ ہوگا؟
انکا مزید کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ بھی ہے جیسا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ کہتا ہے کہ آئی سی سی نے اپنے جس اجلاس میں پاکستان کو ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم کیا اس کے ایجنڈے میں بھی یہ نکتہ شامل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئی سی سی نے پاکستان کو ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم کرنے کا سوچ لیا تھا تو اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کونسا متبادل پروگرام پیش کیا اور اپنے اجلاس میں اس پر کیا بات کی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اس اجلاس میں صرف فیصلہ سنادیا گیا۔
انکا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس بات کے حامی ہیں کہ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ منعقد کرالیں اور2015 کا ورلڈ کپ ایشیا میں ہو لیکن اگر ایشیائی ممالک پاکستان سے تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر بادل نخواستہ پاکستان اپنے میچز نیوٹرل گراؤنڈز پر کرائے۔
آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو قانونی راستہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔
© MMIX