
سہیل عباس نے کہا ہے کہ یورپی لیگ میں سخت مقابلہ ہوتا ہے
ایشیاء کپ کے لیے لگائے گیے کیمپ کے کھلاڑیوں میں شامل ہونے والے پینیلٹی کارنر لگانے کے ماہر سہیل عباس کا کہنا ہے کہ یورپین ہاکی لیگ میں کھیل کا معیار بین الاقوامی ہاکی سے زیادہ ہے اور اس میں مقابلہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔
سہیل عباس سمیت چار سینئر کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی پر ہاکی کے چند حلقوں کی جانب سے ان کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے جبکہ سہیل عباس اس بات سے متفق نہیں۔
سب سے زیادہ یعنی 274 گول کا عالمی ریکارڈ رکھنے والے سہیل عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اپنے ملک کی جانب سے کھیلتے ہیں تو ایک ہی ملک جیسے ہالینڈ، جرمنی یا آسٹریلیا کی ٹیم سے کھیلتے ہیں جبکہ لیگ ہاکی میں ایک ٹیم میں ہی دنیا کے بہترین کھلاڑی اکٹھے ہوتے ہیں اور اس میں زیادہ مقابلہ ہوتا ہے اور اسی لیے کھلاڑیوں کی فٹنس کا معیار بھی بہت بلند ہوتا ہے۔
یورپ میں ہونے والی لیگ میں بے پناہ اچھی اور جدید سہولتیں دی جاتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیگ کھیلنے سے پہلے ایک ایک ماہ کا کیمپ لگایا جاتا ہے اور جس گراؤنڈ میں ہم پریکٹس کرتے ہیں وہ دنیا کا سب سے بڑا اور جدید سہولتوں سے آراستہ گراؤنڈ ہے اس میں سات بہترین کوالٹی کی آسٹرو ٹرف ہیں
سہیل عباس
سہیل عباس کا کہنا تھا کہ یورپ میں ہونے والی لیگ میں بے پناہ اچھی اور جدید سہولتیں دی جاتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیگ کھیلنے سے پہلے ایک ایک ماہ کا کیمپ لگایا جاتا ہے اور جس گراؤنڈ میں ہم پریکٹس کرتے ہیں وہ دنیا کا سب سے بڑا اور جدید سہولتوں سے آراستہ گراؤنڈ ہے اس میں سات بہترین کوالٹی کی آسٹرو ٹرف ہیں۔
سہیل عباس نے کہا ہمیں جدید آلات کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے اور یہ محاورہ بلکل درست ہے کہ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا۔ لیگ ہاکی میں بہت پیسہ لگایا جاتا ہے جس کے سبب نتائج بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔
ادھر لیگ ہاکی کھیل کر آنے والے پاکستانی فارورڈ ریحان بٹ کے بھی خیالات سہیل عباس سے مختلف نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیگ ہاکی کھیلنے کے سبب ان کی فٹ نس کا معیار بہت زیادہ اچھا ہو گیا ہے کیونکہ لیگ ہاکی میں بین الاقوامی ہاکی کی نسبت مقابلہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔
ریحان بٹ نے کچھ تنقید کرنے والوں کے اس مؤقف سے انکار کیا کہ سینئر کھلاڑیوں کے ٹیم میں آنے سے بھی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہاکی کی بد قسمتی ہے کہ نچلی سطح پر ٹیلنٹ موجود نہیں اس لیے سینئر کھلاڑیوں کے متبادل نہیں مل رہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ ایشیاء کپ کی ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کے شامل ہونے سے ٹیم کی کارکردگی کا گراف بہت اوپر جائے گا۔
سہیل عباس اور ریحان بٹ دونوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں دوبارہ شامل ہو کر انہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ عالمی کپ کے لیے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ ایشیاء کپ میں پاکستان کی جیت کے امکان پر ان دونوں کا یہی کہنا تھا کہ وہ کوئی پیشنگوئی تو نہیں کر سکتے لیکن ان کی کوشش ہو گی کہ پاکستان کی ٹیم کے لیے سخت محنت کریں اور اچھی کارکردگی دکھائیں۔
سہیل عباس اور وسیم احمد نے 2004 میں پاکستان میں ہونے والے چمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا اور یورپین ہاکی لیگ میں شامل ہو گیے تھے۔انہیں بارہا ہاکی انتظامیہ نے بلایا لیکن وہ دونوں پاکستان کے لیے دستیاب نہ ہو سکے لیکن اب چار سال بعد ان کی پاکستان کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ ریحان بٹ اور سلمان اکبر بھی المپکس کے بعد ایشیاء کپ میں پاکستان کی جانب سے کھیلیں گے۔
© MMX