
کئی ماہ سے مہمند ایجنسی میں طالبان کے خلاف آپریشن جاری ہے
پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے نزدیک ایک کارروائی کے دوران چھبیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مہمند ایجنسی میں کی جانے والی اس کارروائی میں فوجیوں کو توپخانے اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرنٹیئر کور کی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سپری کے علاقے میں کیا جانے والا آپریشن کامیاب رہا ہے اور اس کے دوران چھبیس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم اس بیان میں فوجیوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔
مہمند ایجنسی ان سات قبائلی علاقہ جات میں سے ایک ہے جہاں پاکستان کی مسلح افواج کئی ماہ سے طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔
ادھر سینیچر کو طالبان نے پشاور کے نزدیک نیٹو کی سپلائی لے جانے والے بارہ ٹرکوں کو تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ فرہاد ٹرانسپورٹ ٹرمینل میں پیش آیا۔ ٹرکوں پر حملہ کرنے والے افراد راکٹوں سے لیس تھے اور انہوں نے اس حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔