![]() |
|
![]() تحریروتصاویر: ذوالفقار علی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوٹلی پاکستان کے بعد اب اس کے زیر انتظام کشمیر میں بھی کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے افراد لاپتہ ہیں اور ان کا الزام ہے کہ وہ خفیہ ادراوں کی تحویل میں ہیں۔ مظفر آباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ذوالفقار علی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کوٹلی میں لائن آف کنڑول کے قریب واقع بعض دیہاتوں میں گئے جہاں ان کی ایسے ہی کئی خاندانوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ خصوصی فییچر انہی ملاقتوں پر مبنی ہے۔
مظفرآباد سے کوٹلی کے اس پہاڑی گاؤں تک آٹھ نو گھنٹے کا سفر ہے۔ گاؤں میں داخل ہوں تو ایک فوجی چوکی نظر آتی ہے لیکن یہاں زیادہ پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ پہاڑوں کے بیچ میں واقع اس چھوٹے سےگاؤں کو لائن آف کنڑول بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے الگ کرتی ہے۔ لائن آف کنڑول کے دوسری طرف مینڈھر کے علاقے میں چند سو گز کے فاصلے پر بھارتی فوجی چوکیاں ہیں۔ نومبر سن دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان لائن آف کنڑول پر فائر بندی سے قبل رڈ اور اس کے ملحقہ کئی دیہات میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے باعث سینکڑوں لوگ ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ کئی افراد بارودی سرنگوں کے باعث معذور ہوچکے ہیں۔ لائن آف کنڑول کے قریب رہنے والے زیادہ تر لوگ غریب ہیں اور بہت سارے لوگ کچے گھروں میں رہتے ہیں۔ یہاں پر لوگ تھوڑی بہت کاشت کرتے ہیں اور مال مویشیوں پالنے کے علاوہ مزدوری بھی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ عرب ممالک میں بھی محنت مزدوری کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ کوئی ڈیڑھ درجن سے زائد بستیوں پر مشتمل گوئی کے علاقے کے نمبردار محمد بشیر کا کہنا ہے کہ تین گاؤں میں کوئی پندرہ لوگ لاپتہ ہیں ان میں بعض سرکاری ملازم بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی آبادی اس خوف میں زندگی بسر کر رہی ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو اٹھایا جاسکتا ہے۔ کوٹلی کے ایک وکیل محمد الیاس چوہدری کا کہنا ہے کہ پندرہ لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے دو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کشمیر ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہے اور دیگر افراد کی رٹ دائر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ الیاس چوہدری کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے لیکن لوگ خوف کے سبب تفصیلات بتانے سے گھبرا رہے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی میجر رٹیائرڈ جاوید مجید سے جب پوچھا گیا کہ ان کا اس معاملے پر کیا موقف ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کریں گے۔ |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ | |||