![]() |
|
![]() تخلیقی قوت یا پیرایۂ اظہار سوال: لیکن یہ جو آپ نے زبان کے ساتھ کیا ہے یا آپ کہتے ہیں کہ تجربہ کیا ہے یا اسلوب اختیار کیا ہے۔ آپ اس سے مطمئن ہیں؟ سوال: شاید اسی لیے افتخار جالب آپ کو سراہتے تھے اور انہوں نے آپ کا دیباچہ بھی لکھا؟ سوال: یہ بتائیں کہ آپ کے ہاں جو اظہار کا جو عمل ہے اس میں آپ اپنے تخلیقی عمل کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں یا دسترس اور مہارت کو؟ لکھیے تو غزل کچھ ایسی بھی کبھی ایسی بھی کبھی ویسی بھی اس کا دوسرا شعر تھا: مضمون کوئی باندھیں گے نیا مضمون کی ایسی تیسی بھی اس سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مضمون کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ میں پیرایۂ اظہار کو اہمیت دیتا ہوں۔ افتخار عارف کہتے ہیں کہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی اور آپ شعر بنا دیتے ہیں۔ بہت بڑا مضمون بھی اگر ہو اور اُسے آپ شعر میں نظم کریں، موزوں کریں لیکن اگر وہ شعر نہیں بنتا تو اس کا کیا فائدہ اس موضوع کا؟ یہی بات بہتر ہے کہ آپ اُسے نثر میں کہیں۔ غزل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شعر کا شعر بننا بہت ضروری ہے۔ شعر میں ایک ایسا طلسم ہوتا ہے جسے میں ڈیفائن (تعریف) نہیں کر سکتا۔ لوگ شعر گوئی اور اور ورسیفیکیشن (منظوم کرنے) میں فرق کو نہیں سمجھتے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، پچانوے فیصد لوگ تو ورسیفیکیشن کر رہے ہیں۔ موزوں کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ شاعری کر رہے ہیں لیکن وہ شاعری نہیں ہے۔ یہ میرا تھیسس ہے میں اس پر لکھتا ہوں، اس پر میں بولتا ہوں، اس پر میں اظہار کرتا ہوں۔ مجھے پوچھا گیا تھا: انگارے والے ظفر اقبال نمبر نکال رہے ہیں، انٹرویو میں، کہ احمد ندیم قاسمی کی شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا ندیم قاسمی صاحب ہم سب کے محسن ہیں۔ ایک چھتنار درخت کی سی ان کی حیثیت ہے لیکن مجھے ان کی شاعری نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کا پیرایۂ اظہار کوئی پچاس ساٹھ سال پُرانا ہے۔ وہ سکہ اب بازار میں نہیں چلتا۔ ان کے کئی پیرو کار اور نیازمند ایسے ہیں جن کا وہی پیرایۂ اظہار ہے۔ تو پیرایۂ اظہار شعر کو شعر بناتا ہے۔ |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ اوپر واپس جانے کے لیے کلک کریں | |||