اپنی تمام شاعری منسوخ بھی کر سکتا ہوں: ظفر اقبال
ظفر اقبال کی غزلیں خود ان کی زبانی
سوال: ظفر اقبال صاحب! اب کم و بیش نصف صدی ہونے کو ہے آپ کی شعر گوئی کو اور اس دوران آپ نے شاید سب سے زیادہ لکھا ہے، تو کیا ہے، جو آپ کو سب سے الگ اور ممتاز کرتا ہے؟
ظفر اقبال: میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ ایک ہی معاشرے میں، ایک ہی آب و رنگ میں، ایک ہی زمین پر، ایک ہی پانی پیتے ہوئے سارا کچھ، تو میں اپنے ہم عصروں سے اتنا زیادہ مختلف نہیں ہو سکتا، تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے انیس بیس کا، میں نہیں سمجھتا کہ میں سب سے بہت اوپر ہو گیا ہوں، نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی شعور کی بات ہے جو میں کہہ رہا ہوں، اس میں آپ بھی شامل ہیں، اس میں فلاں بھی شامل ہے اور فلاں بھی شامل۔ میری شاعری میں جو عاجزی ہے۔ جو انکسار ہے، مثلاً میں نے کبھی تعلی کا شعر نہیں کہا۔ کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے یہ کیا ہے میں نے یہ کہا ہے کہ یہ میں نے یہ کرنے کی کوشش کی ہے پتہ نہیں، ہوا ہے یا نہیں ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے کلام میں اگر کچھ برکت اگر ڈالی ہے تو اس کی وجہ میرا انکسار بھی ہے۔ ابرار احمد کہا کرتے ہیں کہ یہ آپ کی چالاکی ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ اگر چالاکی ہے، تو ذرا کر کے دکھاؤ۔ مبارک احمد کے بیٹے ہیں ایرج مبارک، وہ کہتے ہیں ظفر اقبال صاحب آپ نے اپنی ہر غزل میں کم از کم تین شعر اپنے خلاف کہے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ میرے ہاں ایک تنقیدی بلکہ ایک خود ہزیمتی موجود ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ جو کام دوسروں نے کرنا ہے وہ میں خود کیوں نہ کر لوں۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر یہ چالاکی ہے تو یہ چالاکی کر کے تو دکھائیں، لکھیں ایک دو شعر اپنی غزل میں۔ اچھا ایک اور بات سے اس کا شبہ مجھے ہوتا کہ شمش الرحمٰن فاروقی اور گوپی چند نارنگ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں، خون کے پیاسے ہیں، لیکن وہ دونوں بہ یک زبان یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ظفر اقبال ہی اس وقت اردو دنیا کا، برصغیر کا سب سے بڑا غزل گو ہے۔ میں اپنے بارے میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں، حالانکہ میں نے کبھی اپنے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ میں اپنی شاعری کے بارے میں کچھ نہیں کہتا لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جتنا کشٹ میں نے اٹھایا ہے اس پیش نظر شعر وہ ہو گا جسے میں کہوں گا کہ یہ شعر ہے اور جس کو میں کہوں کہ شعر نہیں ہے وہ شعر نہیں ہو گا۔ میں تو اپنی شاعری کو خود مسترد کرتا ہوں اور کسی وقت اسے منسوخ بھی کر سکتا ہوں، ساری کی ساری کو۔