|
ای میل قانون: ’آزادی پر حملہ‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں کمپنیوں کو ای میل کی معلومات محفوظ کرنے کا پابند کرنے والے قانون کو ناقدین نے شہری آزادیوں پر حملہ کہا ہے۔
برطانیہ میں نئے قانون کے مطابق مارچ کے مہینے سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ برطانیہ کے اندر بھیجی گئی ہر ای میل کی تفصیلات ایک سال کے لیے محفوظ رکھیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کسی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اتنا وسیع مواد محفوظ رکھ سکیں۔ محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات جرائم اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے مطابق اس معلومات میں ای میل کا پیغام شامل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے یورپی کنوینشن کی شق آٹھ کے تحت پرائیویسی ایک بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حق کا تحفظ بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ایک بار یہ کھو جائے تو پھر اسےبحال کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘ محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات تفتیش اور خفیہ معلومات کے حصول کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مشکوک افراد کی نشاندہی ہوگی، ان کے رابطوں کا پتہ چلے گا، سازشیں کرنےوالے افراد کے آپس کے رابطوں کی کھوج لگائی جا سکے گی اور معلوم ہو سکے گا کہ کس وقت وہ کہاں پر تھے‘۔ ایس اطلاعات بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے معلومات جمع کرنے کے اور بھی عزائم ہیں۔ ان میں تمام معلومات کو ایک جگہ پراکٹھا کرنا، ہر ٹیکسٹ میسج، ای میل اور فون کال اور دیکھی گئی ہر ویب سائٹ کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔ اس منصوبے پر مشاورت اس سال کے آخر میں شروع ہوگی۔ |
اسی بارے میں
’چین انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائے‘01 April, 2008 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ نوجوانوں کے لیے مفید24 November, 2008 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ جرائم ایک بڑا کاروبار17 September, 2007 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ سنسرشپ میں اضافہ18 May, 2007 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ پر سیاسی سرگرمیاں06 June, 2004 | نیٹ سائنس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||