|
بلڈ پریشر کا تعلق جینیاتی نقص سے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر پانچ میں سے ایک سفید فام شخص میں ایسا جینیاتی نقص ہوتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
امریکہ میں کی جانے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں یہ (ایس ٹی کے 39) جین ہوتی ہے ان کا بلڈ پریشر دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔ اس تحقیق میں امریکہ اور یورپ سے سینکڑوں سفید فام لوگوں کے جینیاتی خاکوں کا مطالعہ کیا گیا۔ اگر کافی عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہے تو اس کے خطرناک مضمرات ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے دل کی بیماریوں، دماغ کی نس پھٹنے اور گردوں کے خراب ہوجانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مغربی ممالک میں رہنے والے پچیس فیصد لوگوں ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوتے ہیں لیکن اکثر انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔ یہ تحقیق امریکہ کی یونیورسٹی آف میریلینڈ میں کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز کئی درجن جین تھیں لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے کے بلڈ پریشر کے لیے ایس ٹی کے 39 ہی ذمہ دار ہے کیونکہ یہ ایک ایسا پروٹین تیار کرتی ہے جو بالواسطہ طور پر جسم میں نمک کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق سے وابستہ ایک ماہر ڈاکٹر یان پی کرسٹی چینگ کے مطابق اس دریافت سے مریضوں کو منفرد طریقہ علاج فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں اور بھی بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن میریلینڈ یونیورسٹی کے ہی ڈاکٹر ایلن شولڈینر نے کہا کہ اس دریافت سے ہمیں یہ پتہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ کن لوگوں کو بلڈ پریشر کا زیادہ خطرہ لاحق ہے لیکن یہ ہم رشتہ داروں کی بیماری کا ریکارڈ دیکھ کر بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں
بلڈ پریشر کا نیا علاج ممکن: تحقیق25 August, 2007 | نیٹ سائنس
خون گروپ تبدیل کیا جا سکے گا02 April, 2007 | نیٹ سائنس
امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص11 November, 2006 | نیٹ سائنس
وٹامن سے کینسر کا خطرہ کم نہیں ہوتا10 December, 2008 | نیٹ سائنس
جینیاتی بیماری کا پتا لگانا آسان25 November, 2008 | نیٹ سائنس
بال کب گریں گے پتہ لگ سکتا ہے13 October, 2008 | نیٹ سائنس
جنگلات کی کمی، کھربوں کا نقصان10 October, 2008 | نیٹ سائنس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||