Tuesday, 25 November, 2008, 10:34 GMT 15:34 PST
بعض تحقیق کاروں کے مطابق حاملہ خاتون کے خون کے نمونے کی جانچ سے اس کے بچے میں موجود جینیاتی بیماریوں کے بارے میں پتا لگایا جا سکتا ہے۔
چینی یونیورسٹی کی ہانگ کانگ ٹیم کے مطابق یہ تکنیک سسٹک فائبروسس، بیٹا تھیلیسیمیا اور سکیل سیل کی شناخت ميں مدد فراہم کر سکتی ہے۔
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق اس میں ماں کے خون میں موجود جین کے ڈی این اے کی ماں کے خون سے الگ کر کے جانچ کی جاتی ہے۔
عام طور پر لوگوں میں ہر جین کی دو کاپیاں موجود ہوتی ہیں۔جن میں سے ایک ماں کی طرف سے جبکہ دوسرا اس کی والد کی طرف سے آتا ہے۔
اور جب ایک بچہ وجود میں آتا ہے تو اس بات کا خطرہ بنا رہتا ہے کہ کہیں والدین میں موجود جینیاتی بیماری بچے میں منتقل نہ ہو جائے۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ ميں پچیس میں سے ایک شخص ميں سسٹک فائبروسس جین کی ایک کاپی موجود ہوتی ہے۔ لیکن جن لوگوں ميں اس جین کی دو خراب کاپیاں موجود ہوتی ہیں انہيں ہی اس بمیاری کا مریض کہا جاتا ہے۔
سسٹک فائبروسس ٹرسٹ کے ترجمان کا کہنا ہے’ہمیں اس نئی تحقیق میں کافی دلچسپی ہے کیونکہ اس سے جین میں سسٹک فائبروسس کی موجودگی کے بارے میں پتا لگانا آسان ہو سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اب تک والدین کرونک وائلس سمیپلنگ یا پھر امنیوسنٹیسس کے ذریعے بچے ميں سِسٹک فائبروسس کا پتہ لگاتے رہے ہیں لیکن اس میں بچہ ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ انہيں والدین کو یہ جانچ کرانے کی ہدایت دی جاتی رہی ہے جنہیں پہلے سے ہی پتہ ہو کے ان میں یہ جین موجود ہے یا پھر ان کا پہلا بچہ سِسٹک فائبروسس کا شکار ہے۔‘