BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
موسمی تبدیلی پر ’عالمی مینڈیٹ‘
 

 
 
موسمی تبدیلی
پچیس فیصد کے خیال میں ان کی حکومتیں اقدامات کر رہی ہیں
گیارہ ممالک میں کیے گئے رائے عامہ کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک عالمی مینڈیٹ ہے کہ موسمی تبدیلی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایچ ایس بی سی موسمی پارٹنر شپ نے یہ سروے کرایا ہے جس میں بزنس اور ماحولیاتی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

اس سروے کے مطابق تقریباً پچاس فیصد افراد چاہتے ہیں کہ حکومتیں موسمی تبدیلی کے حوالے سے اقدام کریں جبکہ پچیس فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ان کے رہنما اقدامات کر رہے ہیں۔

سروے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ موسمی تبدیلی میں کمی کے لیے اپنے رہنے کا طریقہ تبدیل کر سکتے ہیں۔

لارڈ نکولس سٹرن کا کہنا ہے کہ یہ سروے اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ موسمی تبدیلی کے حوالے سے مزید مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ یاد رہے کہ لارڈ نکولس سٹرن نے سنہ دو ہزار چھ میں موسمی تبدیلی کی معیشت پر سٹرن ریویو کی قیادت کی۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام چاہتی ہے کہ ان کی حکومتیں موسمی تبدیلی کے بارے میں مزید مؤثر اقدامات کریں اور دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ حکومت کہے کہ وہ اس وقت کرے گی جب دیگر ممالک کچھ اقدامات کریں گے۔‘

یہ سروے پولینڈ میں اقوام متحدہ کی موسمی تبدیلی سے متعلق کانفرنس سے پانچ روز قبل شائع ہوا ہے۔

اگرچہ یہ سروے اگست اور ستمبر میں کیا گیا جب عالمی معیشت گر رہی تھی لیکن تینتالیس فیصد افراد نے موسمی تبدیلی کو معاشی بحران سے زیادہ اہم قرار دیا۔

 ’اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام چاہتی ہے کہ ان کی حکومتیں موسمی تبدیلی کے بارے میں مزید مؤثر اقدامات کریں اور دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ حکومت کہے کہ وہ اس وقت کرے گی جب دیگر ممالک کچھ اقدامات کریں گے
 

ایچ ایس بی سی کے فرانسس سلیون نے کہا ’معاشی تنزلی کے باوجود لوگوں کے ذہنوں پر موسمی تبدیلی ایک اہم مسئلے کے طور پر تھا۔‘

ترقی یافتہ ممالک میں ایک بڑی تعداد نے کہا کہ وہ موسمی تبدیلی میں کمی کے لیے اپنے رہنے کا طریقہ تبدیل کرنے کو تیار ہیں۔ ان ممالک میں برازیل، بھارت، ملیشیا اور میکسکو شامل ہیں۔ تاہم سنہ دو ہزار سات کے مقابلے میں ایسے لوگوں میں کمی آئی ہے جو موسمی تبدیلی میں کمی کے لیے اپنے رہنے کا طریقہ تبدیل کرنے کو تیار ہیں۔

اس سروے کے نتائج بی بی سی کے پچھلے سال کیے گئے سروے سے مماثلت رکھتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اکیس ممالک میں دو تہائی افراد کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ سروے چین، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ میں بھی کیا گیا۔ اور اس سروے میں ہر ملک میں ہزار افراد سے سوال پوچھے گئے۔

 
 
اسی بارے میں
جنگلی حیات میں نمایاں کمی
16 May, 2008 | نیٹ سائنس
قطب شمالی پر موسمی تبدیلی
19 March, 2008 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد