|
چوری کی شناخت اسّی پاؤنڈ میں
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک آن لائن سیفٹی گروپ کے مطابق انٹرنیٹ پر فراڈ کرنے والےگروپ کسی شخص کی مکمل مالیاتی شناخت صرف اسّی پاؤنڈ کے عوض فروخت کر
رہے ہیں۔
فروخت کی جانے والی معلومات میں نام، پتے، پاسپورٹ نمبر، اور کریڈٹ کارڈ نمبرز جیسی خفیہ مالیاتی معلومات شامل ہیں۔ بی بی سی کو دکھائی جانے والی ایک ویب سائٹس پر شناختی معلومات انفرادی طور پر پانچ پاؤنڈ یا پھر اسّی پاؤنڈ کے پیکج کی صورت میں دستیاب تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس وقت ہر دس میں سے چھ لوگ اپنے مالیاتی امور آن لائن نمٹاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ’ای کرائم‘ سے نمٹنے کے لیے عوام کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ’گیٹ سیف آن لائن‘ نامی گروپ کا جسے پولیس بینکوں اور حکومتی حمایت حاصل ہے، کہنا ہے کہ شناخت اور ڈیٹا کی بین الاقوامی تجارت کی وجہ سے شناخت کی چوری ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ گروپ کے مطابق برطانیہ میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے افراد میں سے نصف شناخت کی چوری کے خطرے کا شکار ہیں کیونکہ وہ فائر وال یا ایسے حفاظتی پروگرام استعمال نہیں کر رہے ہیں جن سے شناخت چرانے والے پروگراموں کی نشاندہی ہو سکے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے لوگ بہت سی ویب سائٹس کے لیے ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جس سے بینک تفصیلات اور دیگر حساس معلومات جمع کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ’گیٹ سیف آن لائن‘ کے ٹونی نیٹ کے مطابق ان معلومات کے خریدار افراد خریداری کے بعد انہیں جلد از جلد استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اگر انٹرنیٹ صارفین بہت تھوڑی سی رقم اور وقت خرچ کر کے اس بات کو یقینی بنا لیں کہ ان کا کمپیوٹر محفوظ ہے تو اس قسم کے مالیاتی نقصان کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں
’انٹرنیٹ میں بڑی تبدیلی کا امکان‘24 June, 2008 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ جرائم ایک بڑا کاروبار17 September, 2007 | نیٹ سائنس
سرچ انجن یا گھر کا بھیدی؟02 June, 2007 | نیٹ سائنس
گوگل پر’ملیشیس کوڈ‘ کا خطرہ12 May, 2007 | نیٹ سائنس
بچےاور فحاشی: سائٹس نشانہ17 March, 2006 | نیٹ سائنس
شناخت چوروں کے خلاف کارروائی20 March, 2006 | نیٹ سائنس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||