|
بگ بینگ تجربے میں مزید تاخیر
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بگ بینگ‘ کے فوراً بعد کے لمحات پیدا کرنے کے لیے جاری تجربے کے دوران خراب ہونے والے ہیڈرون کولائیڈر کی مرمت پر قریباً چودہ
ملین پاؤنڈ کا خرچہ آئے گا اور یہ آئندہ موسمِ گرما میں ہی دوبارہ کام کرنے کے قابل ہو سکے گا۔
فرانس اور سوئٹزلینڈ کی سرحدوں پر زیر زمین واقع تحقیقاتی مرکز ’سرن‘ میں موجود انجینئرز اور سائنسدانوں کو تین ارب ساٹھ کروڑ پاؤنڈ مالیت کی اس مشین کو تجربے کے آغاز کے صرف نو دن بعد اس وقت روکنا پڑا تھا جب کولائیڈر کے مقناطیس میں خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ ہیڈرون کولائیڈر میں ذرات کو دہشتناک قوت سے ٹکرانے کا منصوبے میں خرابی کے بعد جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم ’سرن‘ نے خیال ظاہر کیا تھا کہ یہ بندش نومبر تک ہوگی تاہم اب خرابی خدشات سے کہیں بڑی ثابت ہوئی ہے۔ ’سرن‘ کو امید ہے کہ مشین کی مرمت کا کام مئی یا پھر جون سنہ 2009 کے اوائل میں مکمل ہو جائے گا اور مشین کو جون کے آخر میں دوبارہ چالو کیا جا سکے گا۔ سرن کے ترجمان جیمز گلیز کے مطابق’ اگر ہم اسے جلدی صحیح کر سکے تو بہت اچھا ہو گا مگر حقیقت کو مدِنظر رکھیں تو یہ موسمِ گرما کے آغاز تک ہی صحیح ہو پائےگی‘۔ ’بگ بینگ‘ کے فوراً بعد کے لمحات پیدا کرنے کے لیے ہونے والے تجربے کے لیے سرنگ میں ایک ہزار سلنڈر کی شکل کے مقناطیسوں کو ساتھ ساتھ رکھا گیا تھا۔ تجربے کے دوران ان مقناطیسی سلنڈروں سے پروٹون ذرات کی ایک لکیر پیدا ہونی تھی جسے ستائیس کلومیٹر تک دائرے کی شکل میں بنائی گئی سرنگ میں گھومنا تھا۔ تجربے کے تحت سرنگ میں پروٹون ذرات کے ٹکرانے سے دو لکیریں پیدا ہوتیں جو اس مشین کے اندر روشنی کی رفتار سے مخالف سمت میں سفر کرتیں اور ایک سیکنڈ میں یہ لکیریں گیارہ ہزار جست مکمل کرتیں۔ ان لکیروں کو سرنگ کے اندر مقررہ جگہوں پر ایک دوسرے کا راستہ کاٹنا تھا اور ان کے اس ٹکراؤ کا مشاہدہ کیا جانا تھا۔ |
اسی بارے میں
’بگ بینگ‘ تجربہ، دو ماہ کی تاخیر20 September, 2008 | نیٹ سائنس
بِگ بینگ:انڈیا میں لڑکی کی خودکشی 11 September, 2008 | نیٹ سائنس
بگ بینگ تجربے کا کامیاب آغاز10 September, 2008 | نیٹ سائنس
کائنات کی سب سےٹھنڈی جگہ20 July, 2008 | نیٹ سائنس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||