|
انسانی جنین پر تحقیق کی اجازت
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پارلیمان کے ارکان نے ایسے قوانین میں تبدیلی کی منظوری دے کر انسانی جنین کے وسیع تر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
انسانی جنین اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں سائنسی تحقیق کے لیے استعمال ہوں گے۔
اس تبدیلیوں کی وزیر اعظم گورڈن براؤن اور حزب اختلاف کے رہنما ڈیوڈ کیمرن دونوں نے حمایت کی جبکہ کابینہ کے تین کیتھولک وزراء نے قانون میں اس تبدیلی کی محالفت کی۔ ارکان پارلیمان کو ان متنازعہ قوانین کے لیے اپننے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ برطانوی پارلیمان نے سائنسدانوں کو اجازت دے دی کہ وہ انسانوں اور حیوانوں کے مشترکہ مخلوط النسل جنین کی مدد سے سٹیم سیل پر تحقیق کریں جو ایسے غیر متشکل خلیے ہوتے ہیں جن سے مخصوص خلیے تشکیل پاتے ہیں۔ اس عمل میں انسانی خلیوں کے تخم کو جانوروں کے انڈوں میں داخل کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں بننے والے جنین کو چودہ روز تک رکھا جائےگا۔ وزیر صحت نے کہا کہ اس مخلوط النسل جنین کو عورت یا کسی جانور میں داخل نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ جنین ایک مکمل انسان کا خاکہ ہوتا ہے اور جانوروں کے ساتھ ہمارا ملاپ نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمان نے ایسے جنین کی تخلیق کی بھی اجازت دے دی جن کو بنانے کا مقصد ان کے بڑے بہن یا بھائی کو لاحق کسی خطرناک مرض کا علاج کرنا ہوگا۔ یہ خصوصی بہن بھائی دراصل ایسے جنین ہوں گے جو جینیاتی طور پر اپنے بہن بھائیوں سے مطابقت رکھیں گے اور ان کے علاج میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ان قوانین کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ مذکورہ سائنسی تحقیق انسانی زندگی کی تکریم کے منافی ہے۔ قانون کے حامیوں کا خیال ہے کہ مخلوط النسل جنین پر تحقیق سے الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں مدد ملے گی۔ |
اسی بارے میں
انسانی جنین بنانے کی درخواست28 September, 2004 | نیٹ سائنس
جنین کی کلوننگ کا ارادہ ترک18 November, 2007 | نیٹ سائنس
جنین سے متعلق متنازعہ قانون26 March, 2004 | نیٹ سائنس
کلوننگ سے تیس انسانی جنین تیار12 February, 2004 | نیٹ سائنس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||