|
جنگلی حیات میں نمایاں کمی
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی تحقیق کے مطابق انیس سو ستر سے اب تک دنیا کی جنگلی حیات کی آبادی کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے۔
زوالوجِکل سوسائٹی آف لندن کے ایک جائزے کے مطابق جنگلی حیات کی زمین پر رہنے والے انواع کی آبادی میں پچیس فیصد کمی ہوئی ہے، سمندر میں رہنے والی جنگلی حیات میں اٹھائیس فیصد کمی ہوئی ہے اور ندی نالوں میں رہنے والی انواع میں انتیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ انسان کافی حد تک اس عمل کا ذمہ دار ہے۔ جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت جو سلسلہ جاری ہے وہ دنیا کی تاریخ میں ناپید بنانے کی ایک سنگین مثال ہے۔ حیوانیات کی تنظیم زوالوجکل سوسائٹی آف لندن نے جنگلی حیات سے متعلق تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شراکت سے جنگلی حیات کی 1400 انواع کے بارے میں اعداد وشمار جمع کیے ہیں۔ ان میں پرندے، مچھلی، رینگنے والے جانور اور دودھ پلانے والے جانور شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کو جمع کر کے ان کا جائزہ لیا گیا تو یہ نتیجہ نکالا گیا کہ انیس سو ستر سے دو ہزار پانچ یعنی پینتیس سال کے عرصے میں ان کی آبادی میں ستائیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
سمندری حییات خاص طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جائزے کے مطابق یانگٹزی ریور ڈولفِن نامی ایک نوع توبالکل مِٹ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار حیوانیات اور جنگلی حیات کے تنوع سے متعلق جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی ایک کانفرنس کے موقع پر شائع کیے گئے ہیں۔ یہ کانفرنس جنگلی حیات کے تنوع کے معاہدے ’کنوینشن فار بائیو ڈائیویرسِٹی‘ سے متعلق ہے۔اس معاہدے پر 1992 میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس کا مقصد جنگلی حیات کو گھٹنے سے روکنا تھا اور 2002 میں ممبر ممالک نے اس میں کچھ ایسے نکات پر اتفاق کیا جن سے 2012 تک اس صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ لیکن زوالوجِکل سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حکومتیں مناسب پالسیاں لانے میں نا کام رہی ہیں اور دو ہزار دس کے ہدف تک پہنچنا مشکل ہے۔ حیوانات کی عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ اگلی تیس برس میں حیوانات کو موسمی تبدیلی سے خطرہ ہے۔ تنظیم کے مطابق جنگلی حیات میں کمی کی صورتحال سے انسانوں کو بھی براہ راست خطرہ ہے کیونکہ اسی صورتحال میں خوراک میں بیماریاں پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہو جاتا ہے اور پانی کی کمی بھی ہوتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل جیمز لیئپ نے خبردار کیا کہ بائو ڈائیورسٹی میں کمی کا سب پر اثر پڑے گا۔اس کے نتیجے میں نئی ادویات نہیں بنائی جائیں گی اور دنیا کو قدرتی آفات اور عالمی حدت سے پیش مزید خطرات کا سامنا ہوگا۔ ڈبل یو ڈبل یو ایف نے بون کے اجلاس میں شریک ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حیوانات کے تحفظ سے متعلق اپنے وعدہ پر اب عمل کرے اور سنہ دو ہزار بیس تک ڈیفارسٹیشن یعنی جنگلی صفائی کم کرنے کی ہدف تک بھی پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ |
اسی بارے میں
ایمیزن ریزرو:جنگل بچانے کی کوشش16 May, 2008 | نیٹ سائنس
درختوں کی کٹائی روکی جائے:چارلس15 May, 2008 | نیٹ سائنس
قطبی ریچھ کی نسل کو ’خطرہ‘15 May, 2008 | نیٹ سائنس
ایمیزن، انسان اور فطرت کا مستقبل03 May, 2008 | نیٹ سائنس
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||