BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
قدیم انسانی باقیات کی دریافت
 
جبڑا
جبڑے کے چھوٹے سائز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کسی عورت کے جسم کا حصہ ہے
سپین کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نےجنوبی یورپ میں تقریباً ایک ملین سال سے بھی زیادہ پرانےانسانی باقیات دریافت کر لیے ہیں۔

جبڑے کی ہڈی اور دانتوں پر مشتمل ان باقیات کی دریافت سپین کے صوبے برگوس کے شمالی علاقے اٹاپیورکا میں ہوئی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں تحقیق کاروں نے لکھا ہے کہ اس دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس براعظم پر انسان کا وجود زمانہ قدیم سے پایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کو یہاں سے پتھروں کے اوزار اور انسانی ہاتھوں سے کاٹے گئے جانوروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔

دریافت کیے گیے آثار انسان کے نچلے جبڑے کے حصوں پر مشتمل ہے۔ سات دانتوں پر مشتمل باقیات اپنی جگہ پر قائم ہیں جبکہ ایک دانت جو کہ الگ سے ملا ہے وہ بھی اسی انسان کے جبڑے کا حصہ ہے۔

جبڑے کے چھوٹے سائز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کسی عورت کے جسم کا حصہ ہے۔

برگوس میں انسانی ارتقاء کے ادارے، ’سپین نیشنل ریسرچ سینٹر آن ہیومن ایولوشن‘ کے ڈائریکٹر جوز مریا برمودی کاستر کا کہنا ہے کہ ’یہ جنوبی یورپ میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے قدیم انسانی باقیات ہیں۔

اٹاپیورکا کےکئی غاروں میں زمانۂ قدیم کے انسان کے رہن سہن کے سراغ پائے گئے ہیں۔ 1994 میں اس خطے میں ابتدائی انسانوں کی باقیات جو تقریباً 8 لاکھ سال پرانی مانی جاتی ہے، دریافت کی گئیں جنہیں ہومو اینٹی سیسر یعنی ’بانی انسان‘ کا نام دیا گیا۔

 
 
اسی بارے میں
ایٹا تنظیم کی تاریخ
12 March, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد