Thursday, 15 November, 2007, 04:57 GMT 09:57 PST
ریبا شاہد
کراچی
موجودہ سیاسی وملکی حالات میں احتجاج اور اظہارآزادی پر بے شک بندش ہے مگر بلاگرز اس سے بے نیاز اپنے جذبات اور خیالات کا بھرپور اظہار انٹرنیٹ کے ذریعے کر رہے ہیں۔
’پاکستانی طلبہ کی جانب سے ظلم اور نہ انصافی کے خلاف پہلا قدم‘ کا دعوی کرنے والا بلاگ ’دی ایمرجنسی ٹائمز‘ ہنگامی حالت کے دو روز بعد قائم کیا گیا۔
ایمرجنسی ٹائمز پر سات نومبر کی پوسٹ کہتی ہے ’حالیہ سیاسی حالات (یعنی مارشل لاء) سے واضح ہے کہ یہ جھوٹ موٹ کی حکومت و وفاق پاکستان دراصل ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو سیاسی قیادت، وکلاء برادری اور عام شہریوں پر مشتمل ہیں یعنی قصہ مختضر کسی قسم کی بھی مزاحمت جس کا اسے اس وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تو پھر اس صورت میں جب ایمرجنسی نافذ کرنے کا جواز دہشت گردی کو روکنا تھا تو کیا اس بابت فوری طور پر پالیسی میں تبدیلیاں نہیں لانی چائیے تھیں؟ ’مگر یوں لگتا ہے کہ وہ برائی جس کا تذکرہ جنرل صاحب نے اپنے خطاب میں کیا تھا ان کے لیے زیادہ اہم ہے بنسبت اس جواز کے جو ساری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔‘
اسی بلاگ کی دس نومبر کی تحریر میں یہ جانچنے کی جستجو کی گی ہے کہ آیا احتجاج کرنے سے اس بار کچھ حاصل بھی ہوگا؟ ’اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم مگر میں اتنا بتا دوں کے میرا سارا دن احتجاج ومذمت اور (اس سلسلہ میں) آن لائن روابط مربوط کرنے میں گزارتا ہے اور میرے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ اگر ایسانہ ہوا تو پھر کیا ؟۔۔۔ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
![]() | |
| آئی فقیرکے نام سے جاننے جانےوالے ایک بیرون ملک مقیم بلاگر اور ایمرجنسی دو ہزار سات وکی کے بانی صباحت اشرف |
اس بلاگ پر ایمرجنسی کے نفاذ پر تبصرے، اپ ڈیٹس اورطلبہ کی دیگر احتجاجی سرگرمیوں خصوصا لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسس کے بارے میں تحریری ، تصویری مواد اور وڈیوز بھی شائع ہیں۔
ایمرجنیسی کے ابتدائی ایام میں اکثر مقامی اور بیرون ملک مقیم بلاگرز نے ملک کے سیاسی بحران سے متعلق اپنی رنجش اور تشویش کے لیے بلاگز کو ذریعہ اظہار اختیار کیا اور فل فور کئی ایسے نئے بلاگزوجود میں آئے جن پر صرف اور صرف ایمرجنسی کے متعلق خیالات وتبصرے شائع ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے ہی بلاگز ملکی اور بیرون ملک ہونے والےاحتجاجی مظاہروں کی تفصیلات اور آنکھوں دیکھے احوال کا مرکز بن گۓ ہیں۔
آئی فقیرکے نام سے جاننے جانےوالے ایک بیرون ملک مقیم بلاگر صباحت اشرف ایمرجنسی دو ہزار سات وکی کے بانی ہیں۔
![]() | |
انٹرنیٹ سے فوری اور بنیادی تبدیلیاں تو رونما نہیں ہوتیں مگر یہ تبدیلی اور کام کی رفتار کو تیز ضرور کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا بھر میں ہونے والی مزاحمت اور احتجاجی مظاہروں کی خبر جب انٹرنییٹ کے ذریعے واپس پاکستان پہنچتی ہے تو اس سے عوام کے حوصلہ اور بلند ہوتے ہیں۔
ایک بلاگر طارق مصطفی انٹرنیٹ پر ایمرجنسی پر تبصروں اور تبادلہ خیال کو تحریک آزادی کے دوران حفیہ خطوط اور معلومات کے سمگلنگ سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’سیاسی بلاگز ایک عام شہریوں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس سیاسی عمل اور مکالمہ کا حصہ ہیں۔ مگر یہ عمل دخل صرف ایک ایسے پڑھے لکھے طبقے تک محدود ہے جسے انٹرنیٹ تک رسائی میسر ہے۔‘
ماضی میں حکومت پاکستان کی جانب سے انٹرنیٹ سینسرشپ کی جانب کچھ اقدامات بھی لیے گئے تھے اور اس سلسلے میں چند ویب سائٹس تک رسائی بھی روک دی گي تھی۔ روائتی ميڈیا اور سیٹلائٹ ڈش انٹینا کی درآمدات پر عائد پابندیوں کے بعداکثر انیٹرنیٹ صارفین مستقبل قریب میں ممکنہ انٹرنیٹ سینسرشپ کے خیال سے کسی حد تک فکر مند ہوں مگر یہ سوچ انہیں اس نیو میڈیا سے مستفید ہونے سے روکنے میں قاصر ہے۔