|
’بول کہ بلاگ آزاد ہیں تیرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کے بعد بیشتر نجی نیوز چینلز نے اپنی نشریات انٹرنیٹ کے ذریعہ نشر کرنی شروع کردیں ہیں۔ یہ البتہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے نتیجے میں پاکستانی سائبر سپیس میں ہونے والی سرگرمیوں کا صرف ایک پہلو ہے۔ موجودہ سیاسی وملکی حالات میں احتجاج اور اظہارآزادی پر بے شک بندش ہے مگر بلاگرز اس سے بے نیاز اپنے جذبات اور خیالات کا بھرپور اظہار انٹرنیٹ کے ذریعے کر رہے ہیں۔ ’پاکستانی طلبہ کی جانب سے ظلم اور نہ انصافی کے خلاف پہلا قدم‘ کا دعوی کرنے والا بلاگ ’دی ایمرجنسی ٹائمز‘ ہنگامی حالت کے دو روز بعد قائم کیا گیا۔ ایمرجنسی ٹائمز پر سات نومبر کی پوسٹ کہتی ہے ’حالیہ سیاسی حالات (یعنی مارشل لاء) سے واضح ہے کہ یہ جھوٹ موٹ کی حکومت و وفاق پاکستان دراصل ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو سیاسی قیادت، وکلاء برادری اور عام شہریوں پر مشتمل ہیں یعنی قصہ مختضر کسی قسم کی بھی مزاحمت جس کا اسے اس وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تو پھر اس صورت میں جب ایمرجنسی نافذ کرنے کا جواز دہشت گردی کو روکنا تھا تو کیا اس بابت فوری طور پر پالیسی میں تبدیلیاں نہیں لانی چائیے تھیں؟ ’مگر یوں لگتا ہے کہ وہ برائی جس کا تذکرہ جنرل صاحب نے اپنے خطاب میں کیا تھا ان کے لیے زیادہ اہم ہے بنسبت اس جواز کے جو ساری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔‘ اسی بلاگ کی دس نومبر کی تحریر میں یہ جانچنے کی جستجو کی گی ہے کہ آیا احتجاج کرنے سے اس بار کچھ حاصل بھی ہوگا؟ ’اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم مگر میں اتنا بتا دوں کے میرا سارا دن احتجاج ومذمت اور (اس سلسلہ میں) آن لائن روابط مربوط کرنے میں گزارتا ہے اور میرے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ اگر ایسانہ ہوا تو پھر کیا ؟۔۔۔ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
بی بی بھی جو امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ مشرف کا ساتھ دینے جا رہی تھیں اب کہہ رہی ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے اور ریلیاں نکالیں گے۔ آپ کو لگتا ہے کہ وہ بین الااقوامی شورو غل کی غیر موجوگی میں یہ کرتیں ؟ وکلاء کی ریلیوں کے بغیر؟ ان کےطلبہ کے بغیر جو مزاحمت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؟ اب وہ (بینظیر) چاہے یا نہ چاہیں ان کی پارٹی اور اس کا تمام سیاسی اثرو رسوخ (امید ہےکہ) وکلاء کے مقاصد کے ساتھ جڑ گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے۔ آو ہم تاریخ رقم کريں‘ اس بلاگ پر ایمرجنسی کے نفاذ پر تبصرے، اپ ڈیٹس اورطلبہ کی دیگر احتجاجی سرگرمیوں خصوصا لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسس کے بارے میں تحریری ، تصویری مواد اور وڈیوز بھی شائع ہیں۔ ایمرجنیسی کے ابتدائی ایام میں اکثر مقامی اور بیرون ملک مقیم بلاگرز نے ملک کے سیاسی بحران سے متعلق اپنی رنجش اور تشویش کے لیے بلاگز کو ذریعہ اظہار اختیار کیا اور فل فور کئی ایسے نئے بلاگزوجود میں آئے جن پر صرف اور صرف ایمرجنسی کے متعلق خیالات وتبصرے شائع ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے ہی بلاگز ملکی اور بیرون ملک ہونے والےاحتجاجی مظاہروں کی تفصیلات اور آنکھوں دیکھے احوال کا مرکز بن گۓ ہیں۔ آئی فقیرکے نام سے جاننے جانےوالے ایک بیرون ملک مقیم بلاگر صباحت اشرف ایمرجنسی دو ہزار سات وکی کے بانی ہیں۔
صباحت کے مطابق ایمرجنسی دو ہزار سات وکی کا مقصد تین نومبر دوہزار سات اور اس کے بعد رونما ہونے والے سماجی معاشی اور دیگر اثرات و واقعات کا اندراج کرنا ہے۔ صباحت کے خیال میں ’موجودہ حالات میں بلاگز اور انٹرنیٹ کی وہی حیثیت ہے جو بیسویں صدی میں سیاسی پیمفلیٹس کی ترسیل کو حاصل تھی۔‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان بلاگز کا اثر کتنا وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ کا کردار ایسے حالات میں نہایت اہم ہے۔ انٹرنیٹ سے فوری اور بنیادی تبدیلیاں تو رونما نہیں ہوتیں مگر یہ تبدیلی اور کام کی رفتار کو تیز ضرور کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا بھر میں ہونے والی مزاحمت اور احتجاجی مظاہروں کی خبر جب انٹرنییٹ کے ذریعے واپس پاکستان پہنچتی ہے تو اس سے عوام کے حوصلہ اور بلند ہوتے ہیں۔ ایک بلاگر طارق مصطفی انٹرنیٹ پر ایمرجنسی پر تبصروں اور تبادلہ خیال کو تحریک آزادی کے دوران حفیہ خطوط اور معلومات کے سمگلنگ سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’سیاسی بلاگز ایک عام شہریوں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس سیاسی عمل اور مکالمہ کا حصہ ہیں۔ مگر یہ عمل دخل صرف ایک ایسے پڑھے لکھے طبقے تک محدود ہے جسے انٹرنیٹ تک رسائی میسر ہے۔‘ ماضی میں حکومت پاکستان کی جانب سے انٹرنیٹ سینسرشپ کی جانب کچھ اقدامات بھی لیے گئے تھے اور اس سلسلے میں چند ویب سائٹس تک رسائی بھی روک دی گي تھی۔ روائتی ميڈیا اور سیٹلائٹ ڈش انٹینا کی درآمدات پر عائد پابندیوں کے بعداکثر انیٹرنیٹ صارفین مستقبل قریب میں ممکنہ انٹرنیٹ سینسرشپ کے خیال سے کسی حد تک فکر مند ہوں مگر یہ سوچ انہیں اس نیو میڈیا سے مستفید ہونے سے روکنے میں قاصر ہے۔ | بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||