|
چین کاخلائی مشن روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق چین کا پہلا چاند کے گرد گردش کرنے والا خلائی مشن کامیابی کے ساتھ خلاء میں پہنچ گیا ہے ۔ بغیر کسی انسان کی یہ پرواز ایشیا کی خلائی دوڑ میں ایک نیا مرحلہ ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح کے تجزیے کے لئے ایک سال تک خلاء میں رہے گا۔ بی بی سی کے ایشیا ایڈیٹر سٹیو جیکسن کے مطابق چین کے ٹیلیوژن پر جنوب مغربی چین کے سی چوان صوبے میں واقع ژی چانگ سیٹیلائیٹ لاؤنچ سینٹر سے اِس خلائی مشن کی پرواز براہ راست دکھائی گئی۔ایشیا کی خلائی دوڑ میں چین کے ساتھ بھارت اور جاپان شامل ہیں۔ چین خلائی تحقیق میں ایک اہم ملک کی حیثیت سے ابھرنا چاہتا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ وہ سن دو ہزار بیس تک انسان کے ساتھ چاند پر ایک خلائی مشن بھیجے اور یہ تازہ مشن اسی مشن کی تیاری کا ایک حصہ ہے۔ چانگ نامی یہ مشن جو ایک چینی دیوی کے نام پر ہے، چاند کی سطح کا ایک تفصیلی نقشہ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ کیمائی عناصر کی تقسیم کا بھی جائزہ لے گا۔ چینی خلائی پروگرام کے ایک سائنسداں کوئینگ لام چن کا کہنا ہے کہ اِس مشن سے چین انسان کو چاند پر اتارنے کے اپنے مشن سے ایک قدم قریب ہوگیا ہے۔ چینی خلائی پروگرام کے ایک سائینسداں نے کہا’ تکنیکی لحاظ سے یہ ایک خاصہ مشکل مشن ہے خاص طور پر چاند پر انسان اتارنے یا وہاں سے چیزیں لانے جیسے مقاصد حاصل کرنے کے لیے یہ مشن ایک ایک اہم قدم ہے۔ اِس کے لئے سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے سیٹیلائیٹ کو کنٹرول بھی کرسکتے ہیں یا نہیں۔‘ گزشتہ ماہ جاپان نے چاند کے لئے اپنا پہلا خلائی مشن بھیجا تھا۔ جبکہ بھارت اسی طرح کا ایک مشن آئندہ سال بھیجنا چاہتا ہے۔ یہ تینوں ممالک بڑے خلائی تحقیقاتی مشن کے ذریعے حاصل ہونے والی اہمیت میں اپنے پڑوسیوں سے سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں چاند کے لیے پہلا جاپانی خلائی مشن14 September, 2007 | نیٹ سائنس سپٹنک کی پچاسویں سالگرہ04 October, 2007 | نیٹ سائنس خلاء کے مسافروں کے لئے نئے سکّے06 October, 2007 | نیٹ سائنس انسان کبھی مریخ پر جا سکے گا؟07 October, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||