BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 15:04 GMT 20:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شناخت چوروں کے خلاف کارروائی
 
فشنگ ویب سائٹ
گزشتہ چند برس کے دوران’فشنگ‘ میں تیزی سے اضافہ ہوا
مائیکرو سافٹ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں موجود شناخت کی چوری کے جرم میں ملوث سو سے زیادہ’فشنگ گینگ‘ کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز کر رہی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے ترجمان کا کہنا ہے مارچ کے آخر تک ترپّن مقدمات کا آغاز ہو جائےگا اور جون کے آخر تک دائر کردہ مقدمات کی تعداد سو تک پہنچ جائے گی۔

’فشنگ‘ گروہ کے اراکین ای میل کے ذریعے آپ سے مختلف بنکوں کی ویب سائٹوں کی جعلی نقول پر آپ کی ذاتی معلومات اور پاس ورڈ درج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانیہ میں اس قسم کی ویب سائٹ چلانے والےگروہوں کی تعداد سات تک ہے۔

 فشنگ گینگ مختلف طریقوں سے پیسہ بناتے ہیں۔ کچھ لاگ ان معلومات کی مدد سے سیدھے اکاؤنٹ سے ہی پیسے نکالتے ہیں تو کچھ یہ معلومات دیگر گروہوں کو فروخت کر کے رقم کماتے ہیں۔
 

برطانیہ میں کمپنی کے قومی ٹیکنالوجی افسر جیری فشنڈن کا کہنا ہے کہ ’یہ مخصوص کارروائی ان افراد کے خلاف ہے جن کی نشاندہی’فشنگ گینگ‘ کے پشت پناہ کے طور پر ہوئی ہے‘۔

جیری فشنڈن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران’فشنگ‘ میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سنہ 2005 کے آخر تک انٹرنیٹ پر سات ہزار سے زائد ایسی جعلی ویب سائٹیں موجود تھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سات ہزار ویب سائٹوں کا یہ مطلب نہیں کہ اس کام میں سات ہزار گروہ ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر ویب سائٹوں کے مالک چند گروہ ہی ہیں۔

’فشنگ سائٹ‘ چلانے کا کام زیادہ تر منظم جرائم پیشہ گروہ ہی کرتے ہیں جو چند دن تک ایک فرضی ویب سائٹ چلا کر تحقیقی اداروں کے پہنچنے یا سائٹ بند ہونے سے قبل ہی دوسری سائٹ پر چلے جاتے ہیں۔

 ’فشنگ‘ گروہ کے اراکین ای میل کے ذریعے آپ سے مختلف بنکوں کی ویب سائٹوں کی جعلی نقول پر آپ کی ذاتی معلومات اور پاس ورڈ درج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 

جیری فشنڈن کے مطابق یہ فشنگ گینگ مختلف طریقوں سے پیسہ بناتے ہیں۔ کچھ لاگ ان معلومات کی مدد سے سیدھے اکاؤنٹ سے ہی پیسے نکالتے ہیں تو کچھ یہ معلومات دیگر گروہوں کو فروخت کر کے رقم کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل تک فشنگ ای میلز کی نشاندہی نہایت آسان تھی کیونکہ ان ای میلوں میں بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں اور یہ ویب سائٹیں بھی اصل نہیں لگتی تھیں لیکن اب جب تک صارف یہ نہ جانتا ہو کہ ایک ای میل پیغام میں کیا تلاش کرنا ہے یا اس کے براؤزر پر جعلی ویب سائٹوں کی نشاندہی کرنے کی سہولت نہ ہو، اس کا ان لوگوں کے ہتھے چڑھنا عین ممکن ہے۔

یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں مائیکروسافٹ کی یہ تازہ کارروائی امریکہ میں کمپنی کی جانب سے مشتبہ فشنگ گروہوں کے خلاف دائر کردہ ان 117 مقدمات کے بعد شروع ہوئی ہے جن کے نتیجے میں 4700 فشنگ ویب سائٹیں بند کی گئی ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
بچےاور فحاشی: سائٹس نشانہ
17 March, 2006 | نیٹ سائنس
امریکہ: کریڈٹ کارڈز کوخطرہ
19 June, 2005 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ چوری کے خلاف چھاپے
23 April, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد