Monday, 06 December, 2004, 00:42 GMT 05:42 PST
کروشیا میں جامعہ زغرب کی تحقیق کرنے والی ایک ٹیم نے تجربات کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ شہد کی مکھی سے حاصل ہونے والے اجزاء سے چوہوں میں ٹیومر کو پیدا ہونے سے اور پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے سائنس کے ایک جریدے میں امکان ظاہر کیا ہے کہ سرطان کے مرض میں مبتلا انسان بھی اس تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
لیکن انہوں نے خبردار کیا شہد کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے کیموتھیراپی یا کیمیائی ادویات کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔
ماہرین تجربات کے ذریعے شہد کی مکھی کے زہر اور شہد کے اثرات معلوم کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے شہد کے چھتے کی تیاری میں کام آنے والے مواد اور مکھیوں سے پیدا ہونے والی اس جیلی کا بھی تجزیہ کیا جو لاروا کی خوراک کے طور پر کام آتی ہے۔
تجربات کے دوران چوہوں میں ٹیکوں کے ذریعے سرطان کے جراثیم داخل کیے گئے۔
کچھ چوہوں میں سرطان کے جراثیم شہد کی مکھی سے حاصل کیے گئے اجزاء داخل کرنے سے پہلے، کچھ میں ساتھ ہی اور کچھ میں بعد میں داخل کیے گئے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر شہد پہلے کھلایا جائے تو سرطان کے ٹیومر کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ اسی طری مکھیوں سے حاصل کی گئی جیلی جب چوہوں کو سرطان کے جراثیم داخل کرتے وقت کھلائی گئی تو اس نے بھی واضح طور پر سرطان کو پھیلنے سے روک دیا۔
شہد کی مکھی کے زہر سے سرطان کا ٹیومر سکڑنا شروع ہوگیا۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ شہد کس طرح سرطان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور شہد کی مکھیوں کی انسانوں کے لیے افادیت معلوم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تجربات کی ضرورت ہے۔