BBC navigation

’اینٹی ریٹرو وائرل ادویات ایڈز کو روکتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 06:50 GMT 11:50 PST

سنہ دو ہزار گیارہ میں پچیس لاکھ نئے افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے جو کہ سنہ دو ہزار ایک کے مقابلے میں سات لاکھ کم ہے

چین میں محققین کے مطابق ایچ آئی وی کے ایسے مریضوں کا علاج کرنے سے جن کے ساتھی اس مرض میں مبتلا نہیں اس مرض کے پھیلنے کی شرح میں کمی آتی ہے۔

اس سے پہلے ایک کلینک ٹرائل (یعنی تجرباتی طور پر) ’اینٹی ریٹرو وائرل‘ ادویات کے فوائد سامنے آ چکے ہیں تاہم چین میں یہ حالیہ تجزیہ اپنی نوعیت کا پہلا ٹرائل ہے۔

ایک برطانوی ماہر کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو یہ ادویات دینے نے اس مرض کے پھیلاؤ کے تناسب میں کمی آئے گی۔

واضح رہے کہ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن یعنی ڈبلیو ایچ او نے عالمی سطح پر اس مرض کے پھیلاؤ اور اس سے متعلقہ اموات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں پچیس لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے جو سنہ دو ہزار ایک کے مقابلے میں سات لاکھ کم ہے۔ دو ہزار گیارہ میں اس مرض کی وجہ سے سترہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے جو سنہ دو ہزار پانچ کے مقابلے میں چھ لاکھ کم ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اینٹی ریٹرو وائرل ادویات تک رسائی کو عام بنانا مرض کی روک تھام کے لیے اہم قدم ہوگا۔

اینٹی ریٹرو وائرل ادویات مریض کے خون میں پائے جانے والے وائرس کی مقدار کو کم کرتے ہیں اور اس وائرس کے پھیلنے کی شرح میں کمی لاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سنہ دو ہزار پندرہ تک ایک سو پچاس لاکھ افراد تک اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی رسائی ممکن بنانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگر حالیہ تناسب سے کام جاری رکھا تو اس ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔