bbc.co.uk navigation

چیونٹیاں اپنے دشمن کو یاد رکھتی ہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 فروری 2012 ,‭ 06:02 GMT 11:02 PST

سائسندانوں کا کہنا ہے کہ گروہ کی صورت میں رہنے والی چیونٹیاں جن کا شمار قدرت کے قدیم ترین اور قابل معاشروں میں ہوتا ہے، یہ اجتماعی طور پر اپنے دشمنوں کو یاد رکھتی ہیں۔

جب ایک چیونٹی کسی دوسرے گروہ سے آنے والے بن بلائے مہمان سے لڑائی کرتی ہے تو وہ اس کی بُو کو یاد رکھتی ہے اور پھر اسے تمام گروہ میں منتقل کر دیتی ہے۔

ایسا کر کے وہ اپنے گروہ کی تمام چیونٹیوں کو حملہ آور گروہ کی چیونٹی کو شناخت کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔

سائنسی جریدے میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کی کئی اقسام میں بطورِ معاشرہ رہنے کے لیے کیمائی مادّے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حشرات اپنے ساتھ رہنے والے دوسرے ساتھیوں کو ان کی خاص کیمیائی علامت سے پہچانتے ہیں جو ایک ہی بل میں رہنے والے تمام حشرات کے جسم پر پائی جاتی ہے۔

حشرات ایسے مداخلت کار کو سونگھ کر بھی پہچان جاتے ہیں جو حملے کی نیت سے وہاں آتا ہے۔

یہ تحقیق آسٹریلیا میں میلبورن یونیورسٹی کی ٹیم نے کی جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ چیونٹیاں لڑائی کے بعد اپنے دشمنوں کو یاد رکھ پاتی ہیں یا نہیں۔

محققن نے گرم علاقوں کی معمار چیونٹیوں کا مشاہدہ کیا جو درختوں میں گھر بناتی ہیں۔ ان کے ایک بل میں پانچ لاکھ سے زائد چیونٹیاں رہتی ہیں۔

محققین نے چیونٹیوں کے درمیان ’پہچان‘ کو جانچنے کے لیے انہیں دوسرے گروہ کے مداخلت کاروں سے لڑائی کرنے دی۔

جانچ کے کئی مرحلوں کے بعد ایک بل سے ایک چیونٹی کو مخالف گروہ کے چیونٹی کے ساتھی تجرباتی میدان میں چھوڑا گیا۔ اسی طرح پندرہ مرتبہ چیونٹیوں کا آمنا سامنا کروانے کے بعد سائنسدانوں نے چیونٹیوں سے ایک مصنوعی حملہ کروایا۔

انہوں نے بیس چیونٹیوں کو مخالف چیونٹیوں کے بل کے قریب چھوڑ دیا۔

محققین نے نے تحقیق میں لکھا ہے کہ ’ان مداخلت کاروں پر بل کی رہائشی چیونٹیوں نے روایتی انداز میں حملہ کر دیا۔‘

مداخلت کار چیونٹیوں کے خلاف دفاع کرنے والی چیونٹیوں کا ردِ عمل بہت زیادہ مشتعل تھا کیونکہ انہی میں سے بعض چیونٹیاں تجرباتی جانچ کے دوران مداخلت کاروں سے لڑ چکی تھیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر مارک ایلگر نے بی بی سی نیچر کو بتایا کہ ایک گروہ میں رہنے والی تمام چیونٹیاں کسی ایک ساتھی کے تجربے کے بنیاد پر بھی کسی کے بارے میں ردِ عمل ظاہر کردیتی ہیں۔ انہوں نے اسے مجموعی یا ’گروہی دانشمندی‘ قرار دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔