
برطانیہ میں ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں صدی میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقصانات کے ساتھ ساتھ مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب، گرمی کی شدت اور پانی کی قلت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ قطب شمالی میں بحری جہازوں کے نئے راستے، سردی کے باعث ہونے والی اموات میں کمی اور کاشت بڑھ سکتی ہے۔
دو ہزار صفحوں پر مشتمل یہ دستاویز برطانوی ڈپارٹمنٹ برائے ماحول، خوراک اور دیہی علاقوں نے شائع کیا ہے اور اس کا مقصد عالمی حدت سے نمٹنا ہے۔
تین سال کی ریسرچ کے بعد منظرِ عام پر آنے والے اس دستاویز میں زراعت، سیلاب اور ٹرانسپورٹ سمیت گیارہ اہم پہلوؤں کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔
اس دستاویز کے مطابق مناسب اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں کئی نتائج سامنے آ سکتے ہیں جیسے موسمِ گرما کی شدت میں اضافہ جس کی وجہ سے دو ہزار پچاس کی دہائی تک سالانہ اموات میں پانچ سو اسی سے لے کر پانچ ہزار نو سو تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
سنہ دو ہزار اسیً کی دہائی تک جنوبی اور مشرقی برطانیہ میں پانی کی قلت ہوسکتی ہے۔
سیلاب کے باعث ہونے والا نقصان سنہ دو ہزار اسًی کی دہائی تک دو اعشاریہ ایک ارب سے لے کر بارہ ارب تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب اس کے مثبت نتائج بھی رپورٹ میں بتائے گئے ہیں مثال کے طور پر قطب شمالی میں برف کے پگھلنے کی وجہ سے ایشیاء پہنچنے کے نئے اور چھوٹے راستے تلاش کیے جا سکیں گے۔
موسمِ سرما کی شدت میں کمی کے باعث دو ہزار پچاس کی دہائی تک تین ہزار نو سے لے کر چوبیس ہزار تک اموات میں کمی ہو سکے گی۔
دو ہزار پچاس کی دہائی تک گندم کی کاشت میں چالیس سے لے کر ایک سو چالیس فیصد اور گنے کی کاشت میں بیس سے لے کر ستر فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ان تمام نتائج کا انحصار کمپیوٹر کے ذریعے بنائے گئے مستقبل کے ماڈلوں پر ہے تاہم ان کو مکمل طور پر قابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں صدی کے دوران لندن میں سمندر کی سطح میں تیس سے ایک سو نوے سینٹی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیکریٹری برائے ماحولیات کیرولائن سپیلمین کا اس رپورٹ کے بارے میں کہنا تھا ’یہ رپورٹ ظاہر کر رہی ہے کہ ابھی سے مناسب اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں کیا ہوگا اور ان اقدامات کو کرنے سے ہماری اقتصادی پائیداری پر کیا اثر پڑے گا۔‘



















