
ماہرین کہتے ہیں کہ سمندر کے پانی کی سطح اگر ایک میٹر بڑھتی ہے تو بنگلہ دیش کا پندرہ فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ جائے گا
بیس ایسے ممالک کے وزراء اور ماہرین کا بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اجلاس ہورہا ہے جنہیں خدشہ ہے کہ ان کے ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کا اثر سب سے زیادہ ہونے والا ہے۔
اتوار سے شروع ہونے والی دو دن کی اس کانفرنس میں امیر ممالک سے اپیل کی جائے گی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے زیادہ مالی اور تکنیکی مدد فراہم کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ ان سب ممالک کے مطالبات سنیں گے جو ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ چند ہی ہفتوں بعد جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اقوام متحدہ کی جانب سے ماحولیاتی کانفرنس بھی ہونے والی ہے۔
یوں تو ساری دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں لیکن بنگلہ دیش، بھوٹان اور مالدیپ جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ آنے والے عشروں میں ان پر تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پڑے گا اور انہیں فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر ماہرین کہتے ہیں کہ سمندر کے پانی کی سطح اگر ایک میٹر بڑھتی ہے تو بنگلہ دیش کا پندرہ فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ جائے گا اور لاکھوں لوگ پناہ گزین بن جائیں گے۔
ان ممالک کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک ذمہ دار ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگتنے والے غریب ممالک کی امیر ممالک کو مدد کرنی چاہیے۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ امیر ممالک عالمی حدت کے لیے بنائے گئے خصوصی فنڈ کی تشکیل کا کام تیز کریں۔
اس کوشش کا مقصد ان ممالک کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مشترکہ طور پر اٹھائی جانے والی آواز سے ان ممالک کی تشویش کا ازالہ ہوسکے گا۔

















