
زرّافے کی یہ نسل صرف اسی خطے میں پائی جاتی ہے۔
افریقی ملک نائیجر میں ایک نایاب نسل کے زّرافوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس علاقے میں دس سال قبل ان کی آبادی میں کمی ہونا شروع ہوگئی تھی۔
نائیجر کی حکومت کی مدد سے زّرافہ کے تحفظ اور افزائش نسل کے لیے ایک مرکز قائم کیا گیا جہاں پچاس زرّافوں کے ریوڑ کو رکھا گیا۔ اس علاقے میں اب ان کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ تعداد دو سو تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ زرّافے اب دوسرے علاقوں میں بھی اپنا مسکن بنا رہے ہیں۔
کبھی ہزاروں کی تعداد میں زرّافے مشرقی افریقہ میں چاڈ کے صحرا سے لیے کر اٹلانٹک کی ساحلی پٹی تک کے علاقوں میں گھومتے نظر آتے تھے لیکن ان کی نسل معدوم ہوتی جا رہی ہے اور اب یہ جانور صرف نائیجر کے دارالحکومت نیامی کے قریب ایک چھوٹے سے علاقے میں ہی دیکھائی دیتے ہیں۔
زرّافوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی فاؤنڈیشن کے سربراہ جولین فینیسی کا کہنا ہے کہ اب زرّافے نیامی شہر سے ساٹھ کلومیٹر دور کسانوں کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور انھیں کھیتوں کی دوسری جانب دیکھا جا سکتا ہے۔
’اب وہاں زرّاف مویشوں کے لیے بنائے گئے پانی کے تالابوں سے پانی پیتے نظر آتے ہیں جو ایک حوصلہ افزاء بات ہے کہ اس علاقے میں واحد بچ جانے والی جنگی حیات اب مقامی لوگوں کے درمیان رہ رہی ہے۔زرّافوں کی تعداد میں اب اضافہ ہو رہا ہے اور یہ علاقے میں گھوتے نظر آتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ زرّافوں کے لیے نئے علاقے دیکھ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ جدید پٹے خریدنے کےلیے مالی وسائل مہیا کیےگئے ہیں تاکہ زرّافوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
نائیجر کی حکومت نے شکار پر پابندی لگا دی ہے اور اسے امید ہے کہ زّرافوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک میں سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔زرّافوں کے نئے ریوڑ جن کا قد انیس فٹ تک لمبا ہو سکتا ہے کی تعداد میں اضافے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں ان کی آبادی میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
© MMIX