
چین میں ایک سو ملین سے زائد ویب صارفین ہیں
چین کی وزارتِ صحت نے انٹرنیٹ پر حد سے زیادہ وقت بِتانے والے نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی کی سفارش کی ہے۔
چین میں بچوں کو انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال کی عادت ترک کروانے میں مدد دینے کے درجنوں مراکز قائم ہیں جن میں سے زیادہ تر فوجی طرز کی تربیت دینے والے مراکز ہیں جو سخت جسمانی ورزش اور کاؤنسلنگ کی مدد سے یہ عادت چھڑوانے کا دعوٰی کرتے ہیں۔
چین میں اگست کے مہینے میں اس وقت شدید عوامی احتجاج ہوا تھا جب ڈینگ سین شان نامی ایک پندرہ سالہ لڑکا ایسے ہی ایک کیمپ میں داخلے کے چوبیس گھنٹے سے بھی کم عرصے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے چند دن بعد ایک چودہ سالہ لڑکے کو ایسے ہی ایک کیمپ کے پرنسپل اور دیگر طلباء کے ہاتھوں پٹائی کے بعد شدید زخمی حالت میں سیچوان کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی وزارتِ صحت کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ’ انٹرنیٹ کے غیرضروری استعمال کے خاتمے کے لیے کوششوں میں شخصی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے اور جسمانی تشدد کرنے کی سختی سے ممانعت ہونی چاہیے‘۔ اسی سال جولائی میں وزارتِ صحت نے ان کیمپوں میں علاج کے لیے بجلی کے جھٹکے دینے پر باقاعدہ طور پر پابندی عائد کی تھی۔
چینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کو صحتمندانہ انداز میں استعمال کیا جائے اور ہم انہیں انٹرنیٹ کے استعمال سے بالکل روکنا نہیں چاہتے۔
ایک اندازے کے مطابق چین کے ایک سو ملین ویب صارفین میں سے بیس برس سے کم عمر کے قریباً دس فیصد صارف انٹرنیٹ پر ضرورت سے زیادہ وقف صرف کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے عادی نو عمر لڑکے لڑکیوں کی ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ لوگ سکول کے کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور روزانہ کم از کم چھ گھنٹے آن لائن رہتے ہیں۔
© MMIX