Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 4 november, 2009, 12:32 GMT 17:32 PST

ہلدی سے کینسر کا علاج؟

کری

تجربات میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ کرکیومن خوراک کی نالی میں پائے جانے والے کینسر سیل کو تباہ کر سکتا ہے

سائنسی تحقیق کے مطابق ہلدی پاؤڈر میں پائے جانے والے زرد رنگ کے ذرات کینسر کے خلیوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

طویل عرصے سے کیمیائی مادے کرکیومن میں علاج کی خصوصیات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے اور اسے پہلے ہی جوڑوں کے درد اور حافظے کی بیماری کے علاج کے لیے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

لیکن اب کورک کینسر ریسرچ سنٹر کی ایک ٹیم کے تجربات میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ یہ خوراک کی نالی میں پائے جانے والے کینسر خلیے کو تباہ کر سکتا ہے۔

کینسر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برٹش جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والے نئی تحقیق کے نتائج علاج کے نئے طریقے تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شیرون میکینا اور ان کی ٹیم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کرکیومن چوبیس گھنٹے کے اندر کینسر خلیوں کو ختم کرنا شروع کر دیتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب کرکیومن نے اپنے اثرات دکھانے شروع کیے تو خلیوں نے خود کو ہضم کرنا شروع کر دیا۔

ڈاکٹر میکینا کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ ہلدی میں پائے جانے والے زرد ذرات میں کینسر زدہ عیب دار خلیوں کا علاج کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ’ہمیں شبہ ہے کہ اس میں شفا کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔‘

کینسر ریسرچ یو کے میں کینسر انفارمیشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر لیزلی واکر کے مطابق یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے جس سے ہلدی میں قدرتی طور پر پائے جانے والے کیمیائی اجزاء سے خوراک کی نالی کے کینسر کے علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

برطانیہ میں ہر سال سات ہزار آٹھ سو معدے کی نالی کے نئے مریض سامنے آتے ہیں اور ملک میں کینسر سے ہلاک ہونے والے مریضوں میں سے پانچ فیصد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔