
یورپ کی بارہ بڑی کمپینوں نے چار سو ارب ڈالر سے صحرائے صحارا میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 2050 تک یورپ کی بجلی کی پچاس فیصد ضروریات کو صحارا میں شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی سے پورا کیا جائے گی۔صحارا بحر اوقیانوس سے بحیرۂ احمر تک نوے لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا صحراء ہے۔
یورپ کی کمپنیوں کے کنورشیم کا خیال ہے کہ اس صحرائے صحارا پراجیکٹ سے اگلے چھ سالوں میں بجلی کی پیدوار شروع ہو جائے گی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صحرائے صحارا منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مشرق کے ممالک دھوپ سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور یورپ کا روسی گیس سے پیدا ہونےوالی بجلی پر انحصار کم ہوجائے گا۔
یورپی کمپنیوں کے کنورشیم’ ڈیزرٹیک انڈسٹریل انیشیٹیو‘ کے چیف ایگزیکٹو پال وین سن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شمسی توانائی کو عمل میں لانے کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
اس منصوبے کے تحت شمالی افریقی ٰ کے ممالک میں بڑے بڑے سولر پینل لگا کر پانی کو انتہائی درجے پر گرم کر کے سٹیم ٹربائین چلائی جائیں گے جس سے بجلی پیدا ہوگی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی سٹیم ٹربائین پورے سال بغیر کسی وقفے کے چل سکتی ہیں۔
جرمنی کی حکومت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے اور کئی بار روسی گیس پر اپنے انحصار کو ختم کرنےکی خواہش کا اظہار کر چکی ہے۔
اس منصوبے کے تحت صحارا میں پیدا ہونے والی بجلی کو یورپ تک لانے کے پاور سپلائی کا ایک مربوط نظام قائم کیا جائے گا۔افریقہ کے کئی ممالک نے بھی اس منصبوبےمیں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
نوے لاکھ ایکٹر پر پھیلے صحرائے صحارا میں رقبے کے لحاظ سے آبادی بہت ہی کم ہے۔ یورپی کمپینوں میں سیمن، ڈوچے بینک بھی شامل ہیں۔
© MMIX