
ایرس ون ایکس کی تیاری پر ناسا ساڑھے تین سو ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے
امریکی صدر کے مقرر کردہ ماہرین نے پینل نے تجویز دی ہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کو اپنے نئے خلائی راکٹ ایرس ون ایکس کا منصوبہ ترک کر کے چاند کے علاوہ کائنات میں موجود دیگر اجرامِ فلکی پر توجہ دینی چاہیے۔
امریکی صدر براک اوباما نے مئی کے مہینے میں ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا تھا جس کا کام خلاء میں امریکی انسانی مشن کا جائزہ لینا اور اس سلسلے میں ترجیحات کا تعین تھا۔
لاک ہیڈ مارٹن کے سربراہ نارمن آگسٹائن کی سربراہی میں تشکیل دیے جانے والے اس گروپ نے ایسی متعدد تجاویز پیش کی ہیں جن میں ایرس راکٹ استعمال کیے بغیر خلاء بازوں کو خلاء میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کی یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ناسا اس ماہ کے آخر میں اس راکٹ کی پہلی تجرباتی پرواز کرنے والا ہے۔ سو میٹر لمبا یہ راکٹ اس خلائی گاڑی کا ایک نمونہ ہے جسے ناسا آنے والے عشرے میں خلابازوں کو خلا میں لے جانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی خلائی ادارہ اپنے خلائی جہاز کو آئندہ برس ریٹائر کرنے والا ہے اور اس نے اپنے نئے جہاز ’کونسٹیلیشن‘ پر کام شروع کر دیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرس ون ایکس راکٹ کو خلائی جہاز کی جگہ استعمال کرنے کا منصوبہ نہ صرف حد سے زیادہ مہنگا ہے بلکہ اس کی تیاری میں بہت زیادہ وقت بھی لگے گا۔
ایرس ون ایکس راکٹ کی تیاری میں اب تک ناسا چار برس کے دوران تین سو پچاس ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے تاہم یہ راکٹ پرواز کے لیے سنہ 2017 سے قبل تیار نہیں ہو گا اور یہ وہی وقت ہے جب بین الاقوامی خلائی مرکز کو مدار سے ہٹا لیا جائے گا۔
ماہرین کے پینل کے سربراہ کے مطابق خلابازوں کو اب کسی قریبی شہابِ ثاقب یا مریخ کے کسی چاند کا رخ کرنا چاہیے۔ ناسا اس وقت اپنے اٹھارہ ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کا نصف خلا میں انسانی مشن بھیجنے پر صرف کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو ’خلائی ٹیکسیوں‘ کی تیاری کے منصوبے پر پانچ ارب ڈالر خرچ کرنے چاہیئیں اور ان ٹیکسیوں کو امریکہ اور دیگر ممالک کے خلابازوں، محققین اور سیاحوں کو خلاء میں لانے لیجانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
© MMIX