Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 17 october, 2009, 13:33 GMT 18:33 PST

یوروگوئےمیں ’انقلاب‘

یوروگوئے میں پرائمری سکول

پروگرام کا سالانہ خرچہ اکیس ڈالر فی طالب علم ہے

یوروگوئے کو دنیا کا پہلا ایسا ملک بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جہاں پرائمری سکول میں ہر بچے کے پاس لیپ ٹاپ ہے۔

یوروگوئے میں گزشتہ دو سال میں بچوں کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کے منصوبے میں تین لاکھ باسٹھ ہزار طالب علم اور اٹھارہ ہزار اساتذہ شامل رہے ہیں۔

اس منصوبے سے بہت سے ایسے خاندانوں کو کمپیوٹر حاصل ہوا ہے جنہوں نے انٹرنیٹ پہلی بار استعمال کیا ہے۔

یوروگوئے ’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ سکیم میں شامل ہے جو انٹرنیٹ کے ایک بانی نکولس نیگرپونٹے نے شروع کی ہے۔ نیگروپونٹے کا شروع میں خیال تھا کہ ہر بچے کو ایک سو ڈالر فی مشین میں لیپ ٹاپ فرام کیا جا سکے گا لیکن اس سے زیادہ پیسے خرچ ہو گئے۔

یوروگوئے میں ہر بچے کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے میں دو سو ساٹھ ڈالر فی مشین لاگت آئی ہے۔ اس میں مرمت، اساتذہ کی تربیت اور انٹرنیٹ کے کنیکشن کا خرچہ بھی شامل ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔