
ہندوستان کی حکومت کی ایک کمیٹی نے بی ٹی بینگن کے جینیاتی طور پر بہتر بنانے والے طریقے کو منظوری دے دی ہے۔ اس طریقہ سے پہلی بار کسی کھانے پینے کی اشیا کو جینیاتی طور پر بہتر کر کے پیدا کیا جائے گا۔
بی ٹی بینگن کی اس قسم کو ہندوستان میں بیجوں کی سب سے بڑی کمپنی ماہیکو نے تیار کیا ہے۔ یہ کمپنی تقریباً گیارہ مختلف مقامات پر تجربے کر رہی تھی۔
بی ٹی بینگن کے بارے میں آخری فیصلہ کرنے کے لیے اب اسے مرکزي کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ عام زبان میں اس قسم سے تیار کی جانے والی مصنوعات کو جی ایم یعنی جنیٹیکلی موڈئیفائڈ فوڈ کہا جاتا ہے۔
دوسری طرف جینیاتی طور پر متغیر خوردنی اشیا کی مخالفت کرنے والے گروپس کے مطابق اس قسم کے مصنوعات صحت اور سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
بی ٹی بینگن پیدا کرنا صحیح ہے یا نہيں اس سلسلے ميں سرکار نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے بدھ کو دارالحکومت دلی میں ایک میٹنگ کی جس کے بعد ہی ایسے بینگن پیدا کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
انڈین کونسل آف ایگریکلچر ریسرچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوپن کمار دتا نے بتایا ہے کہ ’میٹنگ میں اس بات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی کہ یہ طریقہ صحت اور ماحولیات کے لیے کس حد تک محفوظ ہے، جینتیاتی طور پر بہتر بنائی گئی بینگن کی فصلوں سے متعلق جو بھی جائزے کیے گئے ہیں اور ان سے جو اعداد و شمار ملے ہیں ان سے یہی پتا چلا ہے کہ ان سے صحت یا ماحولیات پر کوئی برا اثر نہيں پڑتا ہے‘۔
جب کہ اس کی مخالفت کرنے والوں ميں سے ایک تنبظیم گرین پیس کے راجیش کرشنا کا کہنا ہےکہ ماحولیات کے اصولوں کے مطابق یہ ثابت ہو چکا ہے یہ فصلیں ’بائیو ڈائیورسٹی‘ کے لیے بھی اچھی نہيں ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کی فصلیں کئی کیڑوں کو بھی مار دیتی ہیں، مثلا امریکہ کے ان علاقوں میں جہاں اس طرح کی فصلیں پیدا کی جاتی ہیں وہاں تتلیوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی ہے۔
کرشنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ جی ایم فوڈ کے بیجوں پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بول بالا ہے جس کے سبب کسان ان سے اونچی قیمتوں پر بیج خریدنے کے لیے مجبور ہوں گے۔
© MMIX