Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 21 june, 2009, 10:13 GMT 15:13 PST

رحم مادر میں کینسر کی منتقلی ممکن

لوکیمیا رحم مادر میں موجود پلاسینٹا میں داخل ہو سکتا ہے

سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ حاملہ ماں اپنے بچے میں سرطان کی بیماری منتقل کر سکتی ہے۔

ایسے بہت کم کیسز سامنے آئے ہیں کہ ماں اور بچہ ایک ہی طرح کے کینسر میں مبتلا ہوں۔ تاہم اصولی طور پر بچے کے جسم میں اتنی قوت مدافعت ہوتی ہے کہ وہ کینسر سے اس کا دفاع کر سکے۔

برطانوی ٹیم کی طرف سے کیے گئے مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ وہ خلیے جوایک بچے میں لیوکیمیا پیدا کرنے کا سبب بنے صرف ایک ماں سے ہی منتقل ہو سکتے ہیں۔

کیا حاملہ عورتیں اپنے رحم میں بچوں کو کینسر سے متاثر کر سکتی ہیں؟ یہ سوال سو سال تک سائنسدانوں کے لیے معمہ بنا رہا۔کیونکہ اصولی طور پر کینسر کا کوئی بھی ایسا خلیہ جو بچہ دانی میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، اس کو بچے کا دفاعی نظام تیزی سے تباہ کر دیتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ایسے سترہ کیسز سامنے آئے ہیں جس میں ماں اور بچے میں ایک ہی قسم کے کینسر پایا گیا جو کہ عمومًا لیوکیمیا یا میلانوما کہلاتا ہے۔

حال ہی میں ایک ایسے ماں اور اس کے بچے پر تحقیق کی گئی جو لوکیمیا سے متاثرہ تھے۔ محققین نے ایک جدید طریقہ کار جینیٹک فنگر پرنٹنگ تکنیک استعمال کی جس سے یہ ثابت ہوا کہ متاثرہ بچے میں موجود لوکیمیا کے خلیے اس کی ماں سے منتقل ہوئے تھے۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے یہ تحقیق بھی کی کہ کینسر کے خلیے کس طرح بچے کے دفاعی نظام سے بچنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے خون میں شامل ہوگئے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کینسر کے خلیوں میں ڈی این اے کی کمی نے ان خلیوں کو ایک مخصوص شناخت دی جس کی وجہ سے بچے کا دفاعی نظام ان کو بیرونی خلیوں کے طور پر پہچاننے میں ناکام رہا اور وہ رحم مادر میں داخل ہونے میں کا میاب ہوئے۔

برطانیہ کے کینسر ریسرچ کے پروفیسر پیٹر جانسن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کینسر کا ماں سے بچے میں منتقلی کا ثابت ہونا انتہائی غیرمعمولی تحقیق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس تحقیق سےاس بات کو مزید تقویت ملی ہے کہ کینسر کے خلیے جسم میں پھیلنے سے پہلے دفاعی نظام پر حملہ کرتے ہیں۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ متاثرہ افراد کے دفاعی نظام کو خبردار کرکے کینسر سے بچاؤ کا نیا طریقہ علاج دریافت کیا جاسکتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔