
دنیا ميں 33 ملین افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جی رہے ہیں
ایک نئی تحقیق کے مطابق تجرباتی ایچ آئی وی ویکسین کی مدد سے پہلی بار انفکیشن کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
یہ ویکسین پہلے سے تیار کی گئی تجرباتی ویکسینز کو ملا کر تیار کی گئی جسے تھائی لینڈ میں سولہ ہزار افراد کو دیا گیا۔ ویکسین ٹرائل کا یہ اب تک کا سب سے بڑا تجریہ ہے۔
تحقیق میں پایا گیا ہے کہ اس ویکسین نے ایڈز جیسی بیماری کو پھیلانے والے ایچ آئی وی وائرس کے انفکشن کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کر دیا۔
اس تجربے کو اس سمت میں اب تک کی ایک بڑی کامیابی مانا جا رہا ہے لیکن ابھی بھی ایک عالمی ویکسن تیار کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
اس تحقیق کو امریکی فوج اور تھائی حکومت کی مدد سے سات برس تک کیا گیا۔ اس میں اٹھارہ سے تیس برس کی عمر والے اس مردوں اور عرتوں کو لیا کیا جن ميں ایچ آئی وی وائرس موجود نہیں تھا۔
یہ افراد تھائی لینڈ کے اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے جو ایچ آئی وی سے بری طرح متاثر تھا۔
جن افراد پر تجربہ کیا جا رہا تھا ان میں سے آدھے لوگوں کو یہ ویکسین دی گي اور باقی کو پلیسیبو (ایک طبی طریقہ کار) پر رکھا گیا اور سبھی کو ایچ آئی وی اور ایڈز سے بچنے کے لیے مسلسل جانکاری فراہم کی گئی۔
اس تحقیق کے نتیجے ميں دیکھا گیا کہ جن لوگوں کو نئی ویکسین دی گئی تھی ان میں ایچ آئی وی پھیلنے کے امکان میں 31.2 فیصد کی کمی پائي گئی۔
اس تحقیق کی عالمی صحت کے ادارے ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحد کی جانب سے تعریف کی گئی ہے۔ فی الوقت پوری دنیا ميں 33 ملین افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جی رہے ہیں۔
© MMIX