
وہ جوڑے جو اکٹھے سوتے ہیں ان کی نیند میں پچاس فیصد خلل آتا ہے: تحقیق
نیند کے ماہر ڈاکٹر نیل سٹینلی کا کہنا ہے کہ جوڑوں کو بہتر صحت کے لیے علیحدہ سونا چاہیے۔
ڈاکٹر نیل سٹینلی نے برٹش سائنس فیسٹیول میں بتایا کہ وہ جوڑے جو ایک ہی بستر میں سوتے ہیں وہ خراٹوں اور کمبل کے اوپر جھگڑے کی وجہ سے نیند پوری نہیں کر پاتے۔
ایک تحقیق کے مطابق وہ جوڑے جو اکٹھے سوتے ہیں ان کی نیند میں پچاس فیصد خلل آتا ہے۔
ڈاکٹر سٹینلی جو اپنی اہلیہ کے ساتھ نہیں سوتے، کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر جوڑے علیحدہ ہی سوتے تھے لیکن اکٹھے سونے کا رواج صنعتی انقلاب کے دوران کا ہے جب لوگوں نے شہروں کا رخ کیا اور چھوٹے مکانوں میں زیادہ افراد رہتے تھے۔
وکٹوریائی عہد میں یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ شادی شدہ جوڑے علیحدہ سوئیں۔ قدیم روم میں عروسی بستر مجامعت کے لیے ہوتا تھا نہ کہ اکٹھے سونے کے لیے۔
ڈاکٹر سٹینلی کا کہنا ہے کہ آج کل بھی لوگوں کو یہی کرنا چاہیے۔ ’اصل بات یہ ہے کہ آپ کس میں خوش ہیں۔ اگر آپ علیحدہ سو رہے ہیں اور آپ اپنی نیند پوری کرتے ہیں تو آپ علیحدہ سونے سے نہ گھبرائیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم سب کو پہلو گرم کرنا پسند ہے لیکن اس کے بعد آپ یہ کہہ کر اپنے بستر پر جا سکتے ہیں کہ ’میں سونے جا رہا ہوں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ نیند میں خلل سے ڈپریشن، امراض قلب، دماغ کی طرف خون رک جانا، پھیپھڑے کی بیماری، حادثات اور طلاق ہو سکتی ہے۔ لیکن لوگ عام طور پر نیند پوری نہ ہونے کے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
سری یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ میڈوز کا کہنا ہے ’لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ان کو اپنے ساتھی کے ساتھ سونے سے بہتر نیند آتی ہے لیکن حقیقت مختلف ہے‘۔ چالیس جوڑوں پر کی گئی ان کی ایک تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ پچاس فیصد اندیشہ ہے کہ اکٹھے سونے والے جوڑوں میں سے جب ایک بھی نیند میں بستر پر ہلتا ہے تو دوسرے ساتھی کی نیند میں خلل آتا ہے۔
تاہم جوڑے ابھی بھی علیحدہ سونے سے ہچکچاتے ہیں۔ چالیس اور پچاس سال کی عمر کے جوڑوں میں سے صرف آٹھ فیصد علیحدہ سوتے ہیں۔
© MMIX