Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 6 july, 2009, 04:08 GMT 09:08 PST

صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ

فیکٹری کا دھواں

دھویں کا اخراج عالمی درجۂ حرات میں اضافہ کا سبب ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ کلائمیٹ چینج یا آب ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے اس صدی میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بھوک و افلاس کی صورت میں نمودار ہوگا۔

اس ہفتے شروع ہونے والی جی ایٹ کانفرنس سے قبل شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے لوگ غریب تر ہو رہے ہیں جبکہ غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات میں اضافہ اور غذائی اجناس کی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے۔

آکسفیم کے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق مشیر سیویو کارویلو کا کہنا ہے کہ زمینی پیداوار پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کو ان تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے ہجرت کرنا پڑے گی۔

آکسفیم نے جی ایٹ راہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو سنہ دو ہزار بیس تک انیس سو نوے کی سطح سے کم سے کم چالیس فی صد کم کریں۔

تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک کی مدد کے لیے ڈھائی کھرب ڈالر کی رقم مختص کی جائے۔

انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونا والا دھواں زمین کے گرد کاربن ڈائی آکسائڈ کے غلاف کی موٹائی میں اضافہ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں سورج کی گرمی فضا میں داخل تو ہوجاتی ہے مگر خلا میں واپس نہیں جا سکتی۔

اس عمل کے نتیجے میں زمین کا درجۂ حرارت بتدریج بڑھ رہا اور آب و ہوا پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر درجۂ حرارت میں اس اضافہ پر قابو نہ پایا گیا تو زمین پر تباہ کن موسمی تبدیلیاں پیدا ہوں گی جن میں سیلاب، سمندری طوفان اور خشک سالی شامل ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔